اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب لِلحق کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 331 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 500 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ جاری آپریشن کے نتیجے میں افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں ملیا میٹ کر دی گئی ہیں، جبکہ 22 چوکیوں کا کنٹرول پاکستانی فورسز نے سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکری کارروائی کے دوران افغان طالبان کے 163 ٹینک اور جنگی گاڑیاں تباہ ہوئیں، جبکہ افغانستان کے اندر کل 37 مقامات پر فضائی حملے کیے گئے۔
عسکری ذرائع (آئی ایس پی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق، اس جنگ میں 297 خوارج مارے گئے اور 450 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 89 چوکیوں کو تباہ اور 18 کو قبضے میں لیا گیا ہے، جبکہ 115 بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی تباہی کا شکار ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں ملٹری ٹھکانوں پر کارروائی ‘انتہائی درستگی’ کے ساتھ کی گئی ،شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بی بی سی
دہشت گردی اور سرحد پار سہولت کاری:
عطا اللہ تارڑ نے زور دے کر کہا کہ افغان طالبان اور دہشت گردوں کا آپسی گٹھ جوڑ اب پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے اور پاکستان اس خطرناک گٹھ جوڑ پر عالمی برادری کو بارہا متنبہ کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خودکش حملوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ہو رہا ہے، جہاں دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کے لیے مکمل پناہ اور مدد فراہم کی جاتی ہے۔
وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو باقاعدہ اعلانِ جنگ کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں، تاہم دہشت گردوں اور طالبان کے تعلق کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
پاک فوج کی شہادتیں اور عالمی ردعمل:
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دفاعِ وطن کی خاطر پاک فوج کے 12 جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔ آپریشن کے دوران “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے 22 اہم ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق جاری،297طالبان ہلاک،450زخمی،89 چیک پوسٹیں تباہ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی موجودہ حکمت عملی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دونوں شخصیات کو عظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے جنگ بندی کی اپیل کی ہے، جبکہ چین نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس تنازع کے حل کے لیے روس، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے بھی کوششیں جاری ہیں۔




