پاک فوج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ جنوبی سرحد پر کیے گئے حالیہ آپریشن کے دوران طالبان کے متعدد ٹھکانوں پر بھرپور حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں 20 طالبان ہلاک اور 30 سے 35 زخمی ہوئے ۔
کارروائی کے دوران پاک فوج نے چھ اہم طالبان کے ٹھکانے قبضے میں لیے، جن میں شوال سیکٹر کے افغان پوسٹ-2 اور افغان پوسٹ-3، انگور اڈہ سیکٹر کے نیا نیٹو پوسٹ اور الفا پوسٹ، کھمرنگ سیکٹر کا جھنڈا پوسٹ اور زرمیلان سیکٹر کا IAG-1 پوسٹ شامل ہیں۔ ان ٹھکانوں کی کامیاب گرفتاری نے سرحدی علاقوں میں فوجی حکمت عملی کو مضبوط کیا ہے اور طالبان کی حرکات کو محدود کر دیا ہے ۔
اسی دوران انگور اڈہ سیکٹر میں پانچ اہم طالبان ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کیے گئے، جن میں ساؤتھ کمپلیکس، بابری ہاؤس، افغان سرحدی ٹرمینل کمپلیکس، افغانی ہند پوسٹ اور افغان پرانا نیٹو پوسٹ شامل ہیں ۔ مزید کارروائیوں میں شوال اور انگور اڈہ سیکٹر کے چھ دیگر ٹھکانے بھی نقصان پہنچا، جن میں زانداور پوسٹ، C پوسٹ، رادانو، واچکے، ABP-4 اور ABP-5 شامل ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کر دی
پاک فوج کے مطابق یہ آپریشن سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے، طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے اور علاقائی سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا۔ کارروائیوں کے بعد سرحدی علاقوں میں صورت حال مکمل کنٹرول میں ہے اور طالبان کی حرکتیں محدود ہو گئی ہیں ۔
پاک فوج کی یہ کارروائیاں نہ صرف طالبان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں موجود مقامی کمیونٹی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں ۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ سرحدی تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے ۔




