پاک افغان سرحد پر باجوڑ سیکٹر کے قریب دہشت گردوں کی دراندازی کی ایک اور کوشش کو سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے ایک دہشت گرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنا نام عبداللہ بتایا ہے اور اسے فتنہ الخوارج سے وابستہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ دراندازی کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں ۔
سکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کی مبینہ بلااشتعال کارروائیوں کے ردعمل میں آپریشن ’’غضب للحق ‘‘ جاری ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
اس آپریشن کے تحت سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کر رہی ہیں ۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے اور عسکری سازوسامان تباہ ہوئے ہیں، جبکہ 100 سے زائد جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں ۔
مزید بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی فورسز نے مؤثر جواب دیا ۔
ناوگئی سیکٹر باجوڑ اور تیراہ خیبر میں سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کی، جبکہ چترال سیکٹر میں مبینہ طور پر افغان طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کے دفاع اور امن و امان کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی ۔




