مظفرآباد: محکمہ مذہبی امور آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے سال 2026 (بمطابق 1447ھ) کے لیے صدقہ فطر اور روزوں کے فدیہ کا تعین کر دیا ہے۔
ڈائریکٹر مذہبی امور سید وجاہت حسین گردیزی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، جید مفتیان کرام کی مشاورت سے فطرانہ کی کم از کم رقم 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ مذہبی امور کے مطابق صدقہ فطر ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔ اس کی ادائیگی کا مسنون وقت نمازِ عید سے پہلے تک ہے، تاہم کسی وجہ سے تاخیر کی صورت میں عید کی نماز کے بعد بھی اسے ادا کیا جا سکتا ہے۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی، ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کے برابر مالِ تجارت یا نقدی موجود ہو، تو وہ صاحبِ نصاب ہے اور اس پر فطرانہ کی ادائیگی لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان اور انگلینڈ کا بڑا ٹاکراآج ہو گا،سیمی فائنل کی دوڑ تیز
صدقہ فطر اور فدیہ کے ریٹس:
مختلف اجناس کے حساب سے فطرانہ اور 30 روزوں کے فدیہ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
گندم: 2 کلو گندم کے حساب سے فطرانہ 300 روپے، جبکہ 30 روزوں کا فدیہ 9000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
جو: ساڑھے تین کلو جو کے حساب سے فطرانہ 1100 روپے اور 30 روزوں کا فدیہ 33000 روپے ہوگا۔
کھجور: ساڑھے تین کلو کھجور کے حساب سے فطرانہ 1600 روپے، جبکہ 30 روزوں کا فدیہ 48000 روپے طے پایا ہے۔
کشمش: ساڑھے تین کلو کشمش کے حساب سے فطرانہ 3800 روپے اور 30 روزوں کا فدیہ 1,14,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدقہ فطر میں ان چاروں اجناس میں سے کسی ایک کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے، البتہ فقراء کی ضرورت کے پیشِ نظر رقم کی صورت میں ادائیگی کرنا زیادہ بہتر ہے۔ مزید برآں، فطرانہ کی ادائیگی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔




