پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اوپننگ بلے باز صاحبزادہ فرحان نے ‘دی ہنڈرڈ لیگ’ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی عدم شمولیت اور فرنچائزرز کے رویے پر خاموشی توڑ دی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف اہم ترین سپر ایٹ مقابلے سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسٹار کھلاڑی نے واضح کیا کہ لیگز میں کھلاڑیوں کا انتخاب ان کے اپنے بس میں نہیں ہوتا، تاہم وہ ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کی کسی بھی لیگ میں کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور جو ٹیمیں یا لوگ ان میں دلچسپی نہیں رکھتے، وہ ان پر اپنی توجہ ضائع نہیں کرتے۔ انہوں نے پُر امید لہجے میں کہا کہ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ‘دی ہنڈرڈ’ جیسی معیاری لیگ کا حصہ بنے، اس لیے وہ مستقبل میں بہتر نتائج کی امید رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری نژاد برطانوی کرکٹر معین علی پاکستانی کرکٹرز کی حمایت میں ڈٹ گئے
واضح رہے کہ دی ہنڈرڈ لیگ کے اب تک ہونے والے پانچ سیزنز میں پاکستان کے صرف نو کھلاڑی ہی جگہ بنا سکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی بین الاقوامی مصروفیات ہیں۔ اس سال بھی جب یہ لیگ کھیلی جائے گی، پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں مصروف ہوگی، جس کے باعث غیر ملکی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو خریدنے سے کتراتی ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب بی بی سی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ آئی پی ایل فرنچائزرز، جو ہنڈرڈ لیگ کی ٹیموں کے مالکان ہیں، مبینہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں پر بولی نہ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حساس معاملے پر سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بھی آواز اٹھائی ہے اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ECB) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر اس بات کو یقینی بنائے کہ لیگ میں کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ ہو۔




