(تحریر:ظاہر محمود ):17 فروری کا قصہ ہے، میں گلبرگ میں ایک کافی شاپ پر چائے پی رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ ایک دوست کی متواتر کالز آتے دیکھ کر جواب دینا پڑا تو دوسری طرف سے انتہائی دردانگیز آواز میں یہ خبر سننے کو ملی کہ فریحہ نام کی ایک لڑکی، جو فاطمہ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ہے، آئی سی یو میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔ جس دوست نے کال کی اُس نے کہا کہ آپ فوراً وہاں جا کر یہ معلوم کریں کہ اس لڑکی کا پورا نام اور ولدیت کیا ہے کیونکہ اس دوست کی ایک کزن کا نام بھی فریحہ تھا اور وہ بھی اسی جامعہ کی طالبہ تھی۔
میں یہ بات سنتے ہی ذرا گھبرا سا گیا مگر ایک توقف کے بعد پوچھا کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ دوست نے بتایا کہ ٹی وی پر فریحہ نامی ایک لڑکی کے ہوسٹل کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خ و د ک ش ی کرنے کی اطلاعات آ رہی ہیں، کہیں وہ ہمارے والی فریحہ ہی نہ ہو؟ بات جب دوست کی رشتہ دار کی آئی، اور دوست بھی وہ جو خود جائے وقوعہ پر فوراً پہنچنے کے قابل نہیں، تو مجھے فوراً وہاں پہنچ کر اس کی تصدیق کرنا پڑی۔
دریں اثنا میں نے کچھ رپورٹر ساتھیوں کو واقعے کی جانکاری لینے کا کہا تو زین بابو نے اس سانحے کا شکار ہونے والی فریحہ کی تصویریں بھیج دیں۔ دوست سے یہ سن کر کلیجہ کانپ اٹھا کہ یہ تصویر تو اس کی کزن کی ہی ہیں، اور اس کا پورا نام فریحہ افراہیم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان میں بالائی علاقوں میں بارش کی خوشخبری آ گئی!
فریحہ افراہیم فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کی طالبہ تھی اور آج کل اس کے سالانہ امتحانات چل رہے تھے۔ فریحہ افراہیم کا تعلق آزاد جموں کشمیر کے علاقے سدھن گلہ ملوٹ سے تھا جبکہ اس کے والد کچھ ہی عرصہ پہلے اپنی ملازمت سے فراغت پا کر آزاد کشمیر جا بسے تھے۔ فریحہ کی والدہ بطور نرس انسانیت کی خدمت میں صبح و شام مصروف رہتی ہیں۔ دونوں ماں باپ نے بڑی حسرت سے اپنی ساری جمع پونجی لگا کر اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا خواب پورا کرنے کے لیے سخت محنت کی تھی۔
دوست نے مزید بتایا کہ ٹی وی پر اس کے چھلانگ لگا کر خ و د ک ش ی کرنے کی خبریں گرم ہیں، مگر اس واقعے کا جو وقت بتایا جا رہا ہے، اس سے محض آدھا گھنٹہ پہلے فریحہ نے اپنی والدہ سے بات چیت کی۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے پیپر کے بارے میں بتایا اور بھوک کا تذکرہ کیا، تو کال کٹنے کے فوراً بعد وہ کھانے کی طرف مشغول ہو گئی ہوگی، تو یہ واقعہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اُدھر میں فوراً گنگا رام ہسپتال پہنچا۔ ساتھ تابش بٹ صاحب تھے جنہوں نے سب سے پہلے اس وقوعے کی بریکنگ دی تھی۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل ہوتے ہی وہاں کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ملے۔ اُن سے فریحہ کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ فریحہ دم توڑ چکی ہے، اسے آئی سی یو میں رکھا گیا ہے اور صوبائی وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق ہسپتال میں اسی واقعے کی جانچ پڑتال کے لیے موجود ہیں۔
ہم نے فوراً اگلا سوال داغا کہ یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے فی الحال یہ بتایا ہے کہ بچی کا آج کا پیپر ٹھیک نہیں ہوا تھا، اس لیے اس نے مایوسی اور بے چینی میں اپنی جان لے لی، نیز یہ کہ اس کے لواحقین کو مطلع کر دیا گیا ہے۔
میں نے فوراً بریکنگ دی، جتنی میسر معلومات تھیں سب بیان کر دیں۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ جب لواحقین بچی کی نعش لینے پہنچے تو پولیس نے اس سارے وقوعے کو ق ت ل قرار دیا۔ مزید یہ کہ لواحقین نے فریحہ کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد آزاد کشمیر کا رُخ کیا۔
اُدھر سدھن گلہ ملوٹ، آزاد کشمیر میں قیامتِ صغریٰ کا سماں تھا۔ وہ ماں جس نے بڑی حسرت سے اپنی ذہین بیٹی کے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے ایک عمر گزار دی تھی، نڈھال تھی۔ کشمیر کے دورافتادہ پہاڑی علاقے کا باپ اپنی جواں سالہ بیٹی کو سٹیتھوسکوپ اٹھائے سفید کوٹ میں مسکراتے دیکھنے کے بجائے اس کا جنازہ اپنے نحیف کندھوں پر اٹھائے جا رہا تھا۔
نہ صرف خاندان پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا بلکہ اہلیانِ علاقہ ٹی وی پر دی گئی ابتدائی خبروں سے طرح طرح کی باتیں اخذ کر رہے تھے جو جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھیں۔ دنیا جو مرضی کہتی پھرے مگر فریحہ کے والد اور والدہ کو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا کہ اُن کی بیٹی، جس نے اپنے علاقے میں اپنی ذہانت کا لوہا منوایا اور پھر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی جیسے ہائی میرٹ ادارے میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا، وہ کیسے ایک پیپر اچھا نہ ہونے پر اس قدر مایوس ہو سکتی تھی کہ دنیا چھوڑ جائے۔
پھر کچھ ہی وقت پہلے گھر والوں سے اُس نے جس انداز میں بات کی تھی، اُس لہجے کی حلاوت بھی ان کے ذہنوں میں رچی بسی ہوئی تھی۔ سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود نے بھی یہ کہا کہ فریحہ ایک قابل اور ذہین لڑکی تھی اور اُن کی صاحبزادی کی ہم جماعت تھی، بلکہ اُن کی بیٹی کو کلاس ورک میں مدد بھی فراہم کرتی تھی۔
واقعے کو دو تین دن گزر گئے مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کیس پر کسی قسم کی پیش رفت نہیں دکھائی۔ ایک دو تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں اور یہ بیان بھی جاری کر دیا گیا کہ فریحہ کے لواحقین نے کسی قسم کی قانونی کارروائی سے جامعہ کو منع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئی وقت مقرر نہیں کسی بھی آنے والے کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں :آئی جی لیاقت ملک
یہ بات سنتے ہی فریحہ کے والد اور دیگر لواحقین تڑپ اٹھے۔ ایک طرف جواں بیٹی کا سانحہ، پھر اس پر شدید نوعیت کا الزام اور اُلٹا اس کی شفاف تحقیقات کرنے کے بجائے یونیورسٹی انتظامیہ کی اس قدر سرد مہری سامنے آئی۔ اسی لیے انہوں نے ان کمیٹیوں کا بائیکاٹ بھی کر دیا۔ فریحہ کے لواحقین نے سدھن گلہ ملوٹ میں باقاعدہ احتجاج کیا کہ اُن کی بیٹی کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا ہے، اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔




