پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے موسم نے قدرتی توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، وہاں شرین عبداللہ جیسی شخصیات خاموشی سے اس فطری حسن کو بچانے میں مصروف ہیں۔ انہیں ان کے غیر معمولی کام کی وجہ سے ’بٹر فلائی لیڈی‘ کے لقب سے پہچانا جاتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے وہ تتلیوں اور کیٹرپلرز کے تحفظ کے ذریعے انسان اور قدرت کے درمیان ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ شرین عبداللہ کو فطرت سے یہ لگاؤ اپنے والد سے ورثے میں ملا جنہوں نے بچپن میں ہی انہیں زندگی کے مختلف رنگوں کا مشاہدہ کرایا تھا۔ جب وہ خود ماں بنیں اور اپنے بیٹے کو یہی خوبصورت تجربہ دینا چاہا تو انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دیکھا کہ نرسریوں میں پودوں پر موجود کیٹرپلرز کو زہریلی ادویات کے ذریعے مار دیا جاتا ہے، جس نے انہیں ان معصوم جانداروں کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
کلاس رومز سے کنزرویٹریز تک کا سفر:
شرین نے اپنی جدوجہد کا آغاز نرسریوں سے ان کیٹرپلرز کو ریسکیو کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے پال کر دوبارہ ماحول میں چھوڑنے سے کیا۔ 2007 میں انہوں نے اسکول کے بچوں کے لیے پہلا آگاہی سیشن منعقد کیا اور پھر 2012 میں ’بٹر فلائی کلب‘ پروگرام متعارف کرایا تاکہ اس مشن کو مستقل بنیادوں پر چلایا جا سکے۔ 2016 میں انہوں نے ’بٹر فلائی ایفیکٹ‘ پروگرام کا آغاز کیا جو اب کراچی کے سی ایم ایس اسکول، اسلام آباد کے آئی ایس جی اور نارووال پبلک اسکول میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں باقاعدہ کنزرویٹریز اور ’ٹرین دی ٹرینر‘ پروگرامز کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کو اس مشن کی تربیت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ :فریم ورک اور قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
جدید دور کے خطرات اور سماجی رویے:
شرین عبداللہ کے مطابق تتلیوں کی کمی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کی بڑی وجوہات کلائمٹ کرائسز، درختوں کا کٹاؤ اور کیڑے مار ادویات کا بے جا استعمال ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی روشنیوں کی آلودگی بھی ان نازک جانداروں کی آبادی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ اپنے سفر کے دوران انہیں کئی سماجی رکاوٹوں اور عجیب سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، لوگ سمجھتے تھے کہ شاید وہ ان کیٹرپلرز سے کوئی ’یونانی دوا‘ تیار کریں گی یا یہ ان کا کوئی کاروبار ہے، تاہم وقت کے ساتھ شعور بیدار ہوا اور اب یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی ان کے ساتھ اس کام میں شریک ہیں۔
مزید پڑھیں: شاہ غلام قادر کے الزام پر میاں وحید کا سخت ردعمل، جوابی تنقیدی نشتر چلا دیئے
گھر بیٹھے تبدیلی لانے کا عملی طریقہ:
عوام کے لیے شرین عبداللہ کا پیغام بہت سادہ ہے کہ اگر آپ آب و ہوا کا بحران اکیلے تبدیل نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے پودوں پر زہریلا اسپرے نہ کریں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اگر پودے پر 10 کیٹرپلرز ہوں تو کم از کم 4 کو بچا کر ان کی پرورش کریں اور گھر میں ایک ’سیکریفائس پودا‘ الگ رکھیں جہاں انہیں مارا نہ جائے۔ لیموں اور کری پتے کے پودے لگانا تتلیوں کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ یہ ان کے پسندیدہ میزبان پودے ہیں۔ ان کے بقول ایک تتلی سینکڑوں انڈے دیتی ہے لیکن ان میں سے صرف 4 فیصد ہی اپنی زندگی کا چکر مکمل کر پاتے ہیں، لہٰذا ایک ننھی جان کو بچانا پورے ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ شرین کی یہ مہم آج بھی بغیر کسی سرکاری فنڈنگ کے، صرف نجی تعاون اور پرانے طالب علموں کے جذبے سے جاری ہے۔




