نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق خواتین کے زیرِ استعمال سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے اہم شرعی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ شرعی حکم کے مطابق اگر زیورات سونا یا چاندی کے ہوں اور وہ نصاب کے برابر ہوں، تو ان پر زکوٰۃ نکالنا لازم ہے۔ اس میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ زیورات استعمال کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جس دن سے کوئی خاتون ان زیورات کی مالک بنتی ہے، اسے وہ قمری تاریخ یاد رکھنی چاہیے۔ ایک سال مکمل ہونے پر جب وہی قمری تاریخ دوبارہ آئے گی، تو کل مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کے طور پر ادا کرنا واجب ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: صدقہ فطر اور فدیہ کی رقم کتنی ہوگی؟ نئی لسٹ جاری
ایسی صورتحال جہاں کسی خاتون نے رمضان المبارک سے سات ماہ قبل نئے زیورات خریدے ہوں، اس کے لیے دو مختلف احکامات ہیں۔ اگر وہ خاتون پہلے سے صاحبِ نصاب ہے اور ہر سال رمضان میں زکوٰۃ نکالتی ہے، تو وہ اپنے پرانے مال کے ساتھ ان نئے زیورات کی زکوٰۃ بھی رمضان میں ہی ادا کرے گی۔ تاہم، نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق اگر وہ خاتون پہلے صاحبِ نصاب نہیں تھی اور انھی زیورات کی خریداری سے صاحبِ نصاب بنی ہے، تو اس پر زکوٰۃ تب ہی واجب ہوگی جب ان زیورات پر پورا ایک سال گزر جائے گا، چاہے اس دوران رمضان کا مہینہ ہی کیوں نہ آجائے۔




