پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر محمد عامر نے بھارت کی حالیہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے بھارتی ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی بیٹنگ لائن ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، کیونکہ دباؤ کے لمحات میں بیٹنگ یونٹ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے سپر 8 مرحلے سے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ممکنہ ٹیموں پر بھی اپنی رائے دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر مضبوط دکھائی دیتی ہیں اور دونوں ٹیموں کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات واضح ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شاہین آفریدی کے بولنگ ایکشن میں خامی، محمد عامر نے نشاندہی کردی
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف میچ کو چھوڑ دیا جائے تو بھارت کے دیگر مقابلوں میں بیٹنگ لائن عدم تسلسل کا شکار رہی ہے، جو اہم مرحلے میں ٹیم کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔
محمد عامر نے ویسٹ انڈیز کی بالنگ لائن کو خاص طور پر خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گڈاکیش موتی، عقیل حسین، جیسن ہولڈر اور شمر جوزف کسی بھی مضبوط بیٹنگ لائن کو دباؤ میں لا سکتے ہیں ۔
ان کے بقول شیرفین ردرفورڈ اور روومین پاؤل جیسے پاور ہٹرز میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جنوبی افریقا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹیم کا فاسٹ بالنگ، اسپن اٹیک اور بیٹنگ کمبینیشن متوازن اور فارم میں ہے، جو اسے سیمی فائنل کا مضبوط امیدوار بناتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے محمد عامر نے برطانیہ میں کم عمر لارڈ میئر بن کر تاریخ رقم کر دی
دوسری جانب پروگرام کے دیگر پینلسٹس نے مختلف آرا پیش کیں ۔ سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل کی پیشگوئی کی جبکہ احمد شہزاد کے مطابق بھارت اور جنوبی افریقا آخری چار ٹیموں میں شامل ہوں گی ۔ مجموعی طور پر بحث میں ٹیموں کی فارم اور کمبی نیشن کو فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ۔




