ایکشن کمیٹی میں بڑھتے اختلافات پر عمر نزیر کشمیری کا دوٹوک مؤقف

ایکشن کمیٹی میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے حوالے سے رہنما عمر نزیر کشمیری نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تنظیم کے مطالبات، حکومتی معاہدے اور آئندہ لائحہ عمل پر اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے ہونے سے متعلق کہا کہ، “گمان اچھے ہونے چاہئیں چیزیں ڈیلے تو ہو سکتی ہیں کیونکہ پہلے ہماری بات چیت اے جے کے گورنمنٹ کے ساتھ ہوتی رہی لیکن اب پاکستانی گورنمنٹ کے ہائی آفیشیلز کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا ہے،وہ بھی اب فریق ہیں لیکن اگر خدانخواستہ کوئی چالاکی ہوئی یا ڈیلے کیا گیا تو ہم پوری اپنی برتری کے ساتھ نکلیں گے، اب اگر نکلے تو ہمارے مطالبات بھی ذیادہ ہوں گے پھر وہ ہماری فائنل لڑائی ہو گی”۔

بیان میں ان کا مؤقف واضح تھا کہ ایکشن کمیٹی اس وقت معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے مثبت توقعات رکھتی ہے، تاہم ممکنہ تاخیر کی صورت میں سخت ردعمل کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوور سیز کانفرنس ،وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت

پونچھ میں ایکشن کمیٹی کی ڈویژن سے متعلق سوال پر عمر نزیر کشمیری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ، “یہ کوئی نئی ڈویژن نہیں ہے یہ شروع سے موجود ہے، کچھ لوگ ہماری پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ان کا اپنا مائنڈ سیٹ ہے ہم اس طرف نہیں جانا چاہتےیہ ڈویژن راولا کوٹ سے شروع ہوا اور پلندری ، مختلف جگہوں میں یہ موجود ہے ہم ساروں کو ایک ہی پیغام دیتے ہیں کہ ایس او پیز کو فالوکرنا ہمارے سر آ نکھوں پر ہے”۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈویژن کے معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے جبکہ ان کے مطابق یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں بلکہ پہلے سے موجود انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اختلاف رکھنے والوں کا اپنا نقطہ نظر ہو سکتا ہے، تاہم ایکشن کمیٹی اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔

مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی میں دم ہے تو الیکشن میں آئے،مشتاق منہاس صدارتی دوڑ میں شامل،مجتبیٰ بٹ

Scroll to Top