عمران خان کی صحت کیسی؟ ڈاکٹرز کی گفتگو کی تصدیق کرسکتا ہوں نہ تردید،ڈاکٹرعاصم یوسف

لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا ہے کہ جب تک وہ خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کا معائنہ نہیں کر لیتے۔ حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔

شوکت خانم میموریل اسپتال کے ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا ہے کہ گزشتہ شب پونے 10 بجے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والی اسلام آباد کی میڈیکل ٹیم سے ان کی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تین بچوں کے باپ کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی

ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا کہ لاہور سے ڈاکٹر خرم اعظم بھی اس مشاورت میں ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں موجود ڈاکٹروں کے ساتھ تقریباً 40 منٹ تک گفتگو ہوئی جس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ڈاکٹروں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی طبیعت میں کافی بہتری آ چکی ہے۔ تاہم وہ اس رپورٹ کو نہ مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر قبول کر سکتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی ایچ کیو ہسپتال حویلی کے ڈاکٹرز کی ہڑتال،اوپی ڈیز بند، مریض رل گئے

رپورٹ کے مطابق شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت میں بہتری کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مجھے، ڈاکٹر فیصل سلطان یا بانی کی فیملی کے نامزد ڈاکٹرز کو معاملہ دیکھنے دے۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا تھا کہ کل رات پونے دس بجے میری اسلام آباد کے دو ڈاکٹرز سے بات ہوئی ہے۔

ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کا علاج کر رہے ہیں، میری ڈاکٹرز کے ساتھ گفتگو 40 منٹ تک جاری رہی، گفتگو میں میرے ساتھ لاہور سے ڈاکٹر خرم اعظم مرزا بھی شریک ہوئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معروف سکالر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ، ملزم موقع پر گرفتار

ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا کہ دونوں ڈاکٹرز نے مجھے بانی پی ٹی آئی کے علاج، ٹیسٹ، آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا، ڈاکٹرز نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، ڈاکٹرز نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی میں بہتری آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوس ہے میں خود عمران خان کی صحت میں بہتری کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتا، گزارش ہے حکومت مجھے، ڈاکٹر فیصل سلطان یا بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے نامزد ڈاکٹرز کو معاملہ دیکھنے کی اجازت دے۔

Scroll to Top