بنوں: 16 فروری کو بنوں کے تھانہ میریان کے مین گیٹ کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں دو شہری شہید اور پندرہ زخمی ہو گئے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ حفاظتی ریت کی بوریوں کی وجہ سے پولیس اہلکار محفوظ رہے، تاہم معصوم شہری اس حملے کی زد میں آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی کارروائی، انتہائی مطلوب کمانڈر سمیت 6 خوارج دہشتگرد ہلاک
چاہے یہ عناصر فتنہ الہندوستان کے نام سے کام کریں یا فتنہ الخوارج کے نام سے، ان کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔ جب بھی انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ نہتے شہریوں پر حملے ان کے کھوکھلے ایجنڈے کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ان کا مقصد سیاسی یا نظریاتی نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں خوف اور خون ریزی پھیلا کر اسے غیر مستحکم کرنا ہے۔




