کولمبو: آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں روایتی حریف بھارت کے خلاف 61 رنز کی بھاری شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کو شائقین اور ناقدین کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا ہے۔
پاکستانی ٹیم کو گزشتہ 4 ماہ کے دوران بھارت سے چوتھی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے ٹیم کی وائٹ بال فارمیٹ میں بدترین کارکردگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر گزشتہ 16 میچوں میں سے پاکستان صرف 2 جیت سکا ہے جبکہ 13 میں اسے ناکامی ہوئی اور ایک میچ بے نتیجہ رہا۔
تاریخی شکستیں اور ریکارڈز:
بھارت کی پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں یہ مسلسل آٹھویں فتح ہے۔ 2017ء میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو ہرانے کے بعد سے پاکستان کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر ہے۔ قومی ٹیم نے روایتی حریف کے خلاف آخری وائٹ بال فتح 4 ستمبر 2022 کو دبئی میں حاصل کی تھی، جس کے بعد سے اب تک دونوں ٹیمیں 6 بار آمنے سامنے آئی ہیں اور تمام میچز بھارت نے جیتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھی بھارت کا پلہ بھاری ہے، جہاں 9 مقابلوں میں سے بھارت 8 بار فاتح رہا جبکہ پاکستان کو صرف 2021ء میں دبئی میں واحد کامیابی ملی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شکست پر شاہد آفریدی برس پڑے، شاہین سمیت کئی کھلاڑیوں کو باہر بٹھانے کا مشورہ دیدیا
بولنگ اور بیٹنگ میں ناکامی کے اسباب:
کولمبو میں ہونے والے حالیہ میچ میں بولنگ کے شعبے میں عجیب و غریب تضاد دیکھا گیا۔ سلمان آغا، عثمان طارق، محمد نواز اور صائم ایوب نے مل کر 14 اوورز میں 87 رنز دیے، جبکہ دوسری جانب تجربہ کار بولرز شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نے صرف 6 اوورز میں 86 رنز لٹائے جو ہار کا بنیادی سبب بنے۔ اس کے علاوہ کپتان کی جانب سے فہیم اشرف کو مسلسل تیسرے میچ میں بولنگ نہ دینا بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بیٹنگ میں بھی ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی جہاں 7 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی نہ پہنچ سکے اور پوری ٹیم 120 رنز جیسا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
بابر اعظم کا ریکارڈ:
سوشل میڈیا پر اس وقت سب سے زیادہ موضوعِ بحث کپتان بابر اعظم کی انفرادی کارکردگی ہے۔ بابر اعظم نے 2021ء میں دبئی میں بھارت کے خلاف میچ کے بعد سے اب تک ٹی 20 ورلڈ کپ میں کسی بھی فل ممبر ٹیم کے خلاف ایک بھی چھکا نہیں لگایا ہے۔ حالیہ بھارت کے خلاف اہم میچ میں بھی وہ محض 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان مسلسل ناکامیوں نے پاکستان کے موجودہ کرکٹ سسٹم اور کھلاڑیوں کی دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔




