اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی موبائل سمز رجسٹرڈ ہیں کیونکہ غیر مجاز یا جعلی سمز شہریوں کی ڈیجیٹل سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں ۔
پی ٹی اے کی جانب سے مفاد عامہ کے تحت جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کی سم دراصل اس کی ڈیجیٹل شناخت کا اہم حصہ ہے ۔ یہ صرف ایک عام چِپ نہیں بلکہ ذاتی معلومات، رابطوں اور آن لائن سرگرمیوں تک رسائی کی کلید ہے ۔
اگر کسی فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم غلط ہاتھوں میں چلی جائے — چاہے وہ جعلی طریقے سے حاصل کی گئی ہو یا چوری ہو تو اس کے نتیجے میں شہری کا حساس ڈیٹا، بینک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً واٹس ایپ، خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایکسپائر شناختی کارڈز اور فوت شدہ افراد کے نام پر غیرفعال سمز بند
اتھارٹی نے زور دیا ہے کہ بہت سے لوگ اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ پر کتنی سمز فعال ہیں، جس سے فراڈ یا شناخت کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی سمز کی تفصیلات چیک کریں ۔
پی ٹی اے کے مطابق اس کی جانچ کا طریقہ نہایت آسان ہے ۔ صارفین اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کریں، جس کے بعد انہیں ان کے نام پر رجسٹرڈ سمز کی مکمل تفصیل فراہم کر دی جائے گی ۔
اگر فہرست میں کوئی غیر متعلقہ یا مشکوک سم نظر آئے تو متعلقہ موبائل کمپنی سے فوراً رابطہ کر کے اسے بلاک کروایا جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:موبائل سمز صارفین کیلئے اہم خبر، پی ٹی اے نے بڑا فیصلہ کرلیا
اتھارٹی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ بروقت احتیاط مالی اور ذاتی نقصان سے بچا سکتی ہے ۔




