سرکاری افسران کیلئے والدین کے علاج سے متعلق قواعد بدل گئے

حکومت نے بیرونِ ملک تعینات سرکاری افسران کے والدین کے علاج سے متعلق قواعد میں تبدیلی کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اخراجات کو منظم کرنا اور سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنا بتایا گیا ہے۔

نئی ہدایات کے مطابق والدین کو معمول کے طبی علاج کی سہولت بدستور سرکاری خرچ پر ملتی رہے گی۔ اس میں عام چیک اپ، ادویات اور بنیادی علاج شامل ہیں۔ اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ روزمرہ نوعیت کے طبی اخراجات پہلے کی طرح حکومت برداشت کرے گی۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اگر علاج کی نوعیت خصوصی ہو اور اس پر ایک ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ آئے تو ابتدائی ادائیگی متعلقہ افسر کو خود کرنا ہوگی۔ بعد ازاں قواعد کے تحت اس کی ری ایمبرسمنٹ ممکن ہو سکے گی۔ اسی طرح آپریشن یا مہنگے علاج کی صورت میں بھی پہلے رقم ادا کرنا لازم ہوگا۔ اس کے بعد مقررہ طریقہ کار کے مطابق واپسی کی درخواست دی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: جہلم ویلی،سرکاری آٹا میں خورد برد پکڑی گئی، ڈیلر کا لائسنس معطل

نئے قواعد میں یہ حد بھی مقرر کر دی گئی ہے کہ ہر اسٹیشن پر والدین کے علاج کے لیے حکومت زیادہ سے زیادہ 15 ہزار ڈالر تک اخراجات برداشت کرے گی۔ اس سے زائد رقم افسر کو اپنی جیب سے دینا ہوگی۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے علاوہ پیشگی اجازت کے بغیر کیے گئے اخراجات کی واپسی نہیں ہو سکے گی۔اس طرح بیرونِ ملک تعینات افسران کے لیے والدین کے علاج سے متعلق ادائیگی اور ری ایمبرسمنٹ کے طریقہ کار میں باقاعدہ تبدیلی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت مخصوص حد اور شرائط کا تعین کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: روزانہ 2 کپ چائے یا کافی پینے کے دماغی صحت پر حیرت انگیز اثرات، نئی تحقیق سامنے آگئی

Scroll to Top