اسلام آباد( کشمیر ڈیجیٹل )جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر وسینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت پاکستان کشمیرکی آزادی کے لیے سیاسی سفارتی اور اخلافی سطح سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے ۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے تمام ڈیمز کی رائلٹی ا ن کو دی جائے،پانی کے ایک ایک قطرے کا حساب کرکے دونوں حکومتوں کو وسائل دئیے جائیں تاکہ وہ اپنے نوجوانوں کے روزگار اور ریاست کو خود کفیل بنانے کیلئے کچھ کرسکیں ۔
اسلام آبادمیں وزیرہاؤس اور صدر ہاؤس کشمیری عوام کی ضمیر کی منڈیا ں نہ لگائیں یہ پوری کشمیری قوم کے صدر اوروزیر اعظم ہیں اپنی اپنی پارٹیوں کے صدراور وزیر اعظم نہ بنیں ہیں ۔
ان خیالات کااظہارانھوں نے جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے قائمقام امیر مشتاق احمد ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ملنے والے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔
وفد میں جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ راجہ خالد محمود خان مرکزی ،سیکرٹری اطلاعات راجہ ذاکرخان سمیت دیگر ہمراہ تھے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوام پاکستان پارٹی کے رہنما زعیم قادری انتقال کر گئے
اس موقع پر مشتاق احمد ایڈووکیٹ نے مسئلہ کشمیرکی تازہ صورت حال اور آزاد کشمیرگلگت بلتستان کی سیاسی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔
سراج الحق نے کہاکہ تمام روایاتی پارٹیاں اورموروثی قیادتیں عوامی مسائل حل کرنے میں بُری طرح ناکام ہوچکی ہیں،عوام جماعت اسلامی پر اعتماد کریں تو جماعت اسلامی کشمیرکی آزادی کیلئے عملی اقدامات کرے گی اور عوامی مسائل حل کرے گی اور ریاست کے قومی تشخص کو بھی بحال کرے گی ۔
انھوں نے کہا جب میں سینیٹ میں تھا کہ پوری کوشش کی ہے ایوان میں کشمیریوں کی بھی آوازبنوں اور آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ پر بات کی تو اس میں اضافہ کرایا،میری پوری کوشش ہے کہ ڈیمز پر کشمیریوں کو رائلٹی دیاجائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز کشمیریوں کاآنے والازرمبادلہ بھی کشمیریوں کودیاجائے تایہ حکومتیں باوسائل ہوں اور وہ اپنے عوام کوسہولیات فراہم کرسکیں اور اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرسکیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلا دیش انتخابات ،دھاندلی کے الزامات لگ گئے،این سی پی، جماعت اسلامی کا احتجاجی تحریک کا انتباہ
انھوں نے مزید کہاکہ 80لاکھ کشمیریوں کو 10لاکھ قابض بھارتی درندہ صفت فوج پر چھوڑنا ظلم ہے حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیرکے بھائیوں کا تماشہ نہ دیکھے ان کی عملی مدد کرے پاکستان کشمیریوں کاوکیل اور فریق ہونے کے ناطے بابند ہے کہ وہ کشمیریوں کی عملی مدد کرے ۔




