بنگلادیش ،بی این پی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی، این سی پی بری طرح ناکام

ڈھاکہ: بنگلا دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے میدان مار لیا۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی این پی اور اتحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشستوں پر کامیابی سمیٹ لی۔

جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ نیشنل سٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرسکی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیش انتخابات ،دھاندلی کے الزامات لگ گئے،این سی پی، جماعت اسلامی کا احتجاجی تحریک کا انتباہ

رپورٹ کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 209نشستیں جیت چکی ہے، غیرسرکاری نتائج کے مطابق طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے کہا کہ منتخب ہوا تو جن کے ساتھ مل کر تحریک چلائی ان کے ساتھ مل کر ملک چلاؤں گا۔

امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کومحفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔

طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔

ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔

دریں اثناء بنگلا دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) اور جماعت اسلامی نے انتخابات کے بعد کئی حلقوں میں بڑے پیمانے پردھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے تحریک کا انتباہ دیدیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش قومی ریفرنڈم، 67 فیصد ووٹرز کا اصلاحات کے حق میں ووٹ

ڈھاکہ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این سی پی کے ترجمان آصف محمود نے کہاکہ انتظامی ہیرا پھیری سے نتائج تبدیل کئے جا رہےہیں، ڈھاکہ13، ڈھاکہ15، ڈھاکہ16 اور ڈھاکہ17 پر نتائج کو تبدیل کئے گئے ہیں۔

جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل احسن المحبوب زبیرنے ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکہ15 اور ڈھاکہ17 سمیت کئی حلقوں میں، ’’خاص پارٹی‘‘ کے حق میں نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

 

Scroll to Top