بنگلا دیش کی مقامی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تاریخی پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ طارق رحمان کا جیت کا یقین پورا ہوگیا اور ان کے وزیراعظم بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ یہ انتخابات جنوبی ایشیا کے اس مسائل سے دوچار ملک میں سیاسی استحکام کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلا دیش انتخابات ڈرامہ ہیں، مفرور حسینہ واجد کا ردعمل
روئٹر نے مقامی ایکاتور ٹی وی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بی این پی نے 300 رکنی قومی اسمبلی میں میں 151 نشستیں حاصل کر لیں، جو حکومت سازی کے لیے کافی ہے
اس کی حریف جماعتِ اسلامی نے 42 نشستیں حاصل کیں۔ جماعت کے سربراہ شفیق الرحمن نے بی این پی کی سادہ اکثریت حاصل کرنے سے پہلے ہی شکست تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔
جمعرات کی نصف شب ڈھاکہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت محض مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت مثبت سیاست کرے گی۔
ووٹ ڈالنے کی شرح گزشتہ 2024 کے انتخاب میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے زیادہ رہی۔ مقامی میڈیا کے مطابق، اندازہ ہے کہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 60 فیصد سے زائد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
یہ انتخابات 2024 میں جنریشن زی کی قیادت میں کامیاب تحریک کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں، جس نے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق بنگلا دیشی آرمی چیف کی ٹربیونل میں گواہی، حسینہ واجد کے مظالم بے نقاب
تجزیہ کاروں کے مطابق 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں استحکام کے لیے واضح انتخابی نتیجہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ شیخ حسینہ مخالف مہلک مظاہروں نے کئی ماہ تک روزمرہ زندگی اور بڑی صنعتوں، خصوصاً گارمنٹس سیکٹر (جو دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے)، کو متاثر کیا
قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق رحمان نے کہا تھا کہ ’مجھے اپنی جیت کا پورا یقین ہے۔ عوام میں ووٹنگ کے حوالے سے جوش و خروش پایا جاتا ہے۔




