بنگلا دیش انتخابات ڈرامہ ہیں، مفرور حسینہ واجد کا ردعمل

بنگلادیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلادیش میں عبوری حکومت کے زیرِاہتمام ہونے والے عام انتخابات کو ڈرامہ قرار دےدیا۔

بھارت میں مفرور شیخ حسینہ نے کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے تحت کرائے جانے والے انتخابات دراصل ایک ’منصوبہ بند تماشا‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سابق بنگلا دیشی آرمی چیف کی ٹربیونل میں گواہی، حسینہ واجد کے مظالم بے نقاب

انہوں نے اپنی جماعت عوامی لیگ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں لکھا کہ ’عوام کے حقِ رائے دہی، جمہوری اقدار اور آئین کی روح کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔

عوامی لیگ کے بغیر کرائے گئے اس فریب پر مبنی اور ووٹرز کے بغیر ہونے والے انتخاب میں کوئی شفافیت نہیں تھی۔

شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ 12 فروری کی صبح تک ملک بھر کے بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹر ٹرن آؤٹ نہ ہونے کے برابر تھا۔

انہوں نے کہا کہ انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی لیگ کے بغیر کرائے گئے اس انتخاب کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے ان انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک غیرجانبدار نگراں حکومت کے تحت آزاد اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں جن میں سب کو حصہ لینے کی آزادی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو 21 سال قید کی سزا سنا دی

خیال رہے کہ شیخ حسینہ واجد نے اپنے دور حکومت کے دوران آئینی ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کے تحت انتخابات کروانی کی شق کو ختم کردیا تھا۔

واضح رہے کہ اگست 2024 میں طلبہ احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے دوران 1000سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد شیخ حسینہ واجد اپنا عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں۔

Scroll to Top