ڈھاکا: بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات سر اٹھانے لگے ہیں۔ ضلع گوپال گنج میں ایک پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب انتخابی سروے میں دو بڑے سیاسی اتحادوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
دھماکے کی تفصیلات اور نقصانات:
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ضلع گوپال گنج میں قائم پولنگ اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا گیا، جس کے زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو بھی جزوی نقصان پہنچا، جبکہ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی اور ریسکیو اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات : 10 نئی جماعتیں اور لاکھوں نئے ووٹرز میدان میں ، الیکشن کمیشن کا بڑا اعلان!
انتخابی سروے اور کانٹے کا مقابلہ:
دوسری جانب، بنگلہ دیش کے قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے جاری کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے نے سیاسی میدان میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ سروے نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے زیرِ قیادت 11 سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ متوقع ہے۔
عوامی رجحان کے اعداد و شمار:
سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بی این پی کے اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے 11 جماعتی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔ محض چند پوائنٹس کے اس فرق نے انتخابات کو انتہائی حساس بنا دیا ہے اور دونوں گروپس کے درمیان اقتدار کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔




