امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ: بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

ڈھاکہ/واشنگٹن: امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والے ایک حالیہ تجارتی معاہدے نے خطے کی معاشی صورتحال میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ نو ماہ تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے محصولات میں بڑی کمی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے ماہرین بھارت کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

معاہدے کی تفصیلات اور محصولات میں کمی:

گزشتہ پیر، 9 فروری کو ہونے والے اس معاہدے کے تحت امریکہ نے بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات کو 19 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ محصولات پہلے 37 فیصد کی بلند سطح پر تھے، جنہیں گزشتہ سال اگست میں کم کر کے 20 فیصد کیا گیا تھا اور اب اس میں مزید رعایت دے دی گئی ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں امریکی کپاس اور مصنوعی ریشے (Synthetic Fibers) سے تیار کردہ ملبوسات پر امریکی منڈیوں میں داخلے کے وقت کوئی محصول (Zero Tariff) لاگو نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے ڈیل پہلی ترجیح ورنہ نتائج مختلف ہوسکتے ہیں،ٹرمپ

اعلیٰ سطحی قیادت اور مذاکرات:

اس اہم دستاویز پر بنگلہ دیش کی جانب سے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین اور قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمٰن نے دستخط کیے، جبکہ امریکہ کی نمائندگی سفیر جیمیسن گریئر نے کی۔ امریکی سفیر نے اس موقع پر ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیشی ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا سنگ میل قرار دیا۔ بنگلہ دیشی حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ان کے برآمد کنندگان کو امریکی منڈیوں تک وسیع رسائی ملے گی اور لباس سازی کا شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔

بھارت کے لیے ‘خطرناک’ کیوں؟

اس تجارتی پیش رفت نے بھارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بھارت کو سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ زیرو ٹیرف کی سہولت حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیشی فیکٹریاں بھارتی خام مال (کپاس اور دھاگہ) چھوڑ کر امریکی کپاس کی طرف راغب ہو جائیں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت کے کپاس پیدا کرنے والے کسان اور دھاگہ سازی کی صنعت براہ راست متاثر ہوگی۔ مزید برآں، محصولات کی کمی سے عالمی منڈی میں بنگلہ دیشی مصنوعات کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، جس سے انڈین برآمد کنندگان کے لیے مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کیا، جھڑپ میں 10 طیارے تباہ ہوئے:ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

Scroll to Top