دنیا بھر میں جاری مالیاتی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان سونا ایک بار پھر عالمی معیشت کا مضبوط ترین ستون بن کر ابھرا ہے۔ 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری نے عالمی مالیاتی منظر نامے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جس میں ٹاپ 10 ممالک دنیا کے کل ذخائر کا 70 فیصد سے زائد حصہ اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ کی بلا شرکتِ غیرے برتری:
عالمی طاقت امریکہ بدستور اس فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ 8,133 ٹن سونے کے ذخائر کے ساتھ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا حامل ملک ہے، جس کی مجموعی مالیت 650 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذخائر امریکی زرمبادلہ کے کل اثاثوں کا تقریباً 78 فیصد ہیں، جو امریکی ڈالر کی عالمی ساکھ کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتیں آسمان پر: ملک بھر میں فی تولہ سونا 2 ہزار 300 روپے مہنگا
یورپی ممالک کا مالیاتی استحکام:
یورپ کے تین بڑے ممالک جرمنی، اٹلی اور فرانس نے بھی سونے کے ذریعے اپنی معاشی پوزیشن کو مستحکم کر رکھا ہے۔ جرمنی 3,355 ٹن کے ساتھ دوسرے، اٹلی 2,452 ٹن کے ساتھ تیسرے جبکہ فرانس 2,437 ٹن سونے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ ان ممالک کے مرکزی بینک سونے کو مالیاتی بحرانوں کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر محفوظ رکھتے ہیں۔
روس اور چین کی نئی حکمت عملی:
رپورٹ کے مطابق روس اور چین نے حالیہ برسوں میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے سونے کی خریداری میں تیزی دکھائی ہے۔ روس کے ذخائر 2,332 ٹن تک پہنچ چکے ہیں جبکہ چین کے سرکاری ذخائر 2,264 ٹن ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے حقیقی ذخائر ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ بیجنگ عالمی تجارت میں اپنی کرنسی کی قدر بڑھانے کے لیے خاموشی سے سونا جمع کر رہا ہے۔
ایشیائی مارکیٹ اور دیگر ممالک:
ایشیا میں جاپان 846 ٹن اور بھارت 822 ٹن کے ساتھ نمایاں پوزیشن پر ہیں۔ بھارت کے حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہاں نہ صرف مرکزی بینک بلکہ عوامی سطح پر بھی سونے کی ایک بڑی مقدار موجود ہے جو ملک کی ثقافت اور نجی سرمایہ کاری کا اہم حصہ ہے۔ دیگر اہم ممالک میں سوئٹزرلینڈ 1,040 ٹن اور نیدرلینڈز 612 ٹن سونے کے ذخائر کے مالک ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ، خریدار پریشان
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور سیاسی کشیدگی ہے، جس کے باعث عالمی مرکزی بینکوں کا رجحان سونے کی طرف مزید بڑھ رہا ہے۔




