پی ایس ایل 11 آکشن:پاکستانی آل راؤنڈر مہنگے ترین کھلاڑی، 8.5 کروڑ میں فروخت

پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی کا عمل لاہور کے ایکسپو سینٹر میں دھماکہ خیز انداز میں شروع ہو گیا ہے۔ لیگ کی تاریخ میں پہلی بار روایتی ڈرافٹ سسٹم کو ختم کر کے کھلی نیلامی کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے، جس کے آغاز میں ہی قومی آل راؤنڈر فہیم اشرف نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے سخت مقابلے کے بعد فہیم اشرف کو 8.5 کروڑ روپے کی بھاری رقم کے عوض اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے، جس کے بعد وہ پی ایس ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین پاکستانی آل راؤنڈر قرار پائے ہیں۔

بدھ کے روز لاہور میں منعقد ہونے والی یہ نیلامی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ لیگ کو 6 سے بڑھا کر 8 ٹیموں تک وسعت دے دی گئی ہے۔ اس وقت ایکسپو سینٹر میں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہور قلندرز، کراچی کنگز، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ساتھ نئی ٹیمیں راولپنڈی، سیالکوٹ اسٹالیونز اور حیدرآباد ہیوسٹن کنگز آنے والے سیزن کے لیے بہترین اسکواڈز کی تشکیل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ فہیم اشرف، جو اپنی درمیانی رفتار کی بولنگ اور برق رفتار بیٹنگ کی بدولت ٹی 20 فارمیٹ کا بڑا نام مانے جاتے ہیں، پلاٹینم کیٹیگری میں شامل تھے اور ان کی شمولیت نے نئے آکشن فارمیٹ کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی 11 سالہ تاریخ میں پہلا پلیئرز آکشن: آٹھ ٹیموں کے درمیان کھلاڑیوں کی خرید و فروخت جاری

نیلامی کے قواعد و ضوابط کے مطابق، اس بار 880 سے زائد مقامی اور غیر ملکی کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ہر فرنچائز کو 16 سے 20 کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ مکمل کرنا ہوگا۔ قوانین کے تحت ہر ٹیم میں 5 سے 7 غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی ہے، جبکہ کم از کم دو انڈر-23 کھلاڑیوں کو شامل کرنا ہوگا جن میں سے ایک کا پلیئنگ الیون کا حصہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے نیلامی سے قبل کئی کھلاڑیوں کو ری ٹین (برقرار) بھی کیا تھا، تاہم فہیم اشرف کے لیے اتنی بڑی بولی لگانا ٹیم کی حکمت عملی میں ان کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیری نژاد برطانونی کرکٹر معین علی نے پی ایس ایل میں انٹری دیدی

واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کا میلہ 26 مارچ سے 3 مئی تک سجے گا، جس کے لیے لائیو بولی کا عمل پورا دن جاری رہے گا۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اس وقت ایکسپو سینٹر پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ جہاں ایک طرف ٹیموں میں توسیع ہوئی ہے وہیں کھلاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے اس بار لیگ کو اب تک کا سب سے مقابلہ جاتی سیزن بنا دیا ہے۔

Scroll to Top