ڈھاکہ:بنگلہ دیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات اور آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ملک کی سیاسی فضا میں 10 نئی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔
الیکشن کمشنر کے مطابق، اس بار ووٹر لسٹ میں 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ پرانی فہرستوں سے وفات پا جانے والے 20 لاکھ افراد کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں رجسٹرڈ 60 جماعتوں میں سے 50 انتخابات میں شریک ہیں، جن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے سخت سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل آئی سی سی کا بنگلہ دیش سے متعلق بڑا فیصلہ
انتخابی اخراجات کے حوالے سے نئی پالیسی بیان کرتے ہوئے ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے کہا کہ امیدواروں کو اپنے حلقے میں فی ووٹر 10 ٹکا کے حساب سے اخراجات کرنے کی اجازت ہوگی۔ جس حلقے میں 3 لاکھ ووٹرز ہوں گے، وہاں امیدوار زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ ٹکا خرچ کر سکے گا۔ اسی طرح، ڈھائی لاکھ سے کم ووٹرز والے حلقوں کے لیے اخراجات کی بالائی حد 25 لاکھ ٹکا مقرر کی گئی ہے۔
الیکشن کمشنر نے خبردار کیا کہ انتخابی اخراجات کی حد کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے تمام امیدواروں پر زور دیا کہ وہ مقررہ حدود کے اندر رہ کر شفاف انتخابی مہم چلائیں تاکہ جمہوری عمل کی ساکھ برقرار رہے۔




