آزاد کشمیر میں نئے صدرِ ریاست کے انتخاب کے معاملے پر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس آج شام ایوانِ صدر، اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے، جس میں صدارتی امیدوار کا نام فائنل ہونے کا قوی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے بعد خالی ہونے والے صدارتی منصب کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ آج 11 فروری بروز بدھ، شام ساڑھے سات بجے ہونے والے اس اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور اور آزاد کشمیر کی پارلیمانی قیادت شریک ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت قدم اٹھائیں گے: صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کا انتباہ
رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع کر دی ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) نے اس تحریک کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث پیپلز پارٹی کو عددی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں حکومت کی کارکردگی اور آئندہ جنرل الیکشن کی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دعویٰ ہے کہ اگلا صدر پیپلز پارٹی سے ہوگا، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا مؤقف ہے کہ آئندہ حکومت ن لیگ کی ہوگی، اس لیے صدر بھی اسی جماعت کا ہونا چاہیے۔ آج ایوانِ صدر میں ہونے والا یہ اجلاس آزاد کشمیر کی سیاست میں حتمی رخ متعین کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔




