مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت قدم اٹھائیں گے: صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کا انتباہ

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائی کے لیے دوسرا بحری بیڑہ تعینات کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس بار تہران مذاکرات میں سنجیدگی دکھا رہا ہے کیونکہ اسے امریکی عسکری طاقت کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ انہوں نے جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران نے بات چیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتائج اسے بھگتنا پڑے۔ تاہم، ان کے بقول اس بار مذاکرات کی نوعیت ماضی سے بالکل مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی ٹیم کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ کو “انتہائی سخت قدم” اٹھانا پڑے گا۔ دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھیجنے پر مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت خطے میں ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ پہلے سے موجود ہے، جس میں جدید ترین جنگی طیارے اور ٹوماہاک میزائل شامل ہیں۔ ماضی میں غزہ جنگ کے دوران بھی امریکہ نے طویل عرصے تک خطے میں دو طیارہ بردار بحری جہاز تعینات رکھے تھے۔ عالمی مبصرین صدر ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا اوباما سے متعلق متنازع ویڈیو پر معافی مانگنے سے انکار

Scroll to Top