رکن صوبائی اسمبلی نے اپنے بچوں کیساتھ10 غریب جوڑوں کی اجتماعی شادی کرا کر مثال قائم کردی

بلوچستان اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالمجید بادینی کی جانب سے اپنے بچوں کی شادی کا ایک بالکل مختلف اور غیر روایتی انداز سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس تقریب کی وجہ شہرت مہنگے انتظامات نہیں بلکہ سادگی، عوامی شرکت اور غریب خاندانوں کو ساتھ شامل کرنا ہے۔

بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت میں شامل پارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی نے اپنے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی شادی کی تقریب کسی مہنگے ہوٹل یا شادی ہال کے بجائے کھلے میدان میں اجتماعی طور پر منعقد کی۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ، تباہ حال عمارتوں کے درمیان اجتماعی شادی کی تقریب ،خوشی کے رنگ بکھرگئے

اس تقریب میں انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کے دس نوجوانوں کی شادیاں بھی کروائیں۔ اس اقدام کو منفرد اور روایت شکن قرار دیا جارہا ہے۔

عبدالمجید بادینی نے نہ صرف اپنے حلقے کے عوام کو اس شادی میں شرکت کی دعوت دی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ ملک بھر سے جو چاہیں بلا تفریق اس تقریب میں شرکت کرسکتا ہے۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ضلع کے غریب خاندانوں کے نوجوان اگر چاہیں تو اپنی شادی اسی اجتماعی تقریب میں کر سکتے ہیں جنہیں وہ مالی معاونت بھی فراہم کریں گے۔

عبدالمجید بادینی نے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ اعلان کے بعد ابتدا میں نو غریب جوڑوں نے ان سے رابطہ کیا جبکہ تقریب کے اختتام پر ایک اور جوڑا شامل ہوا یوں مجموعی طور پر 10 جوڑوں کی شادی ممکن ہو سکی۔

یہ اجتماعی شادی کی تقریب جعفرآباد کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ڈیرہ اللہ یار کے اے ون سٹی گراؤنڈ میں منعقد ہوئی جہاں تمام جوڑوں کے لیے فی کس 50 ہزار روپے حقِ مہر رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ادا کیا گیا جبکہ دولہا دلہن کو کپڑوں کے جوڑے بھی تحفے میں دیے گئے۔

عبدالمجید بادینی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں بھی کسی بڑے یا امیر گھرانے میں نہیں بلکہ سادہ اور غریب خاندانوں میں کی ہیں جن میں ایک داماد پولیس میں سپاہی ہے جبکہ دوسرا بیروزگار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میرج بل نہیں مانتے،غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمداللہ

اس تقریب میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق مہمانِ خصوصی تھے جنہوں نے تمام جوڑوں کا نکاح پڑھایا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما، مقامی انتظامیہ کے افسران اور بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔

عبدالمجید بادینی کا دعویٰ ہے کہ تقریب میں شریک افراد کی تعداد 10 سے 15 ہزار کے درمیان تھی جنہیں سادہ کھانا فراہم کیا گیا۔

عبدالمجید بادینی نے بتایا کہ انہوں نے دانستہ طور پر امیر اور بااثر طبقے کو مدعو نہیں کیا بلکہ بغیر کسی تفریق کے عام شہریوں کو شرکت کی دعوت دی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سراج الحق کو اس لیے مدعو کیا کہ وہ ان سے بھی غریب ہیں۔

ان کے مطابق شادیوں میں غیر ضروری نمود و نمائش، مہنگے ہوٹلوں اور پروٹوکول کلچر نے غریب طبقے کو خوشیوں سے دور کر دیا ہے اسی سوچ کو بدلنے کے لیے انہوں نے یہ اقدام کیا۔

رکن بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے شادیوں میں اس روایت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جس کے تحت ولیمے میں آنے والوں سے رقم لی جاتی ہے یا مہنگے تحائف کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ولیمہ صدقہ اور خیرات ہے اور اسی نیت سے انہوں نے غریب عوام کو ترجیح دی۔

خیال رہے کہ عبدالمجید بادینی کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں جعفرآباد سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 16 پر سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے بیٹے سمیت طاقتور جمالی خاندان کے امیدواروں کو شکست کر سیاسی حلقوں کو حیران کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن گیم کھیلتے محبت ہوگئی،جرمن ڈاکٹرنے پاکستان پہنچ کر شادی کرلی

جمالی خاندان گزشتہ سات دہائیوں سے اس حلقے کی سیاست پر حاوی رہا ہے۔ مقامی مبصرین کے مطابق عبدالمجید بادینی کی کامیابی کے پیچھے عوامی سیاست، سادہ طرزِ زندگی اور عام لوگوں سے قریبی تعلق اہم عوامل رہے ہیں۔

اس سے قبل عبدالمجید بادینی کی گرین بس میں عام مسافر کی طرح سفر کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

Scroll to Top