بانی پی ٹی آئی کی فوری ملاقات کی استدعا مسترد، سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں پیش ہو کر بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی اجازت طلب کی۔ تاہم، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فریقین کو نوٹس جاری کیے بغیر عدالت ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ، عمران خان، شاہ محمود قریشی کے13 مقدمات سماعت کیلئے مقرر

عدالت نے واضح کیا کہ اس درخواست پر کارروائی سے قبل ‘قابلِ سماعت’ ہونے کے اعتراض کو عبور کرنا لازمی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے متعدد مقدمات دیگر عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں اور موجودہ کیس، جو 24 اگست 2023 کے حکم نامے کے خلاف ہے، بظاہر اپنی افادیت کھو کر غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ عدالت نے اس پہلو کے تفصیلی جائزے کے لیے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

القادر ٹرسٹ کیس میں اہم پیشرفت:

دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی سے متعلق دائر درخواست کو بھی خارج کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ معاملہ قانونی حیثیت کھو چکا ہے، اس لیے اسے غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کی ہڑتال اور احتجاج کی کال ناکام، معمولات زندگی بحال اور مارکیٹیں کھل گئیں

سپریم کورٹ کے ان ریمارکس اور حکومت کو نوٹس جاری کیے جانے کے عمل کو قانونی و سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top