آئی سی سی وفد کی لاہور آمد، پاکستان نے میچ کھیلنے کے لیے کڑی شرائط سامنے رکھ دیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی پاکستان کو منانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ لاہور میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کچھ سخت شرائط منوا کر بھارت کے خلاف میدان میں اترنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حساس معاملے پر حتمی مہر وزیراعظم شہباز شریف لگائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ کی سربراہی میں ایک وفد ہنگامی طور پر لاہور پہنچا جہاں انہوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے طویل ملاقاتیں کیں۔ اتوار کی شب قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے مذاکرات کے کئی دور ہوئے، جس میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے بھی شرکت کی۔ سری لنکن اور اماراتی بورڈز نے بھی پاکستان سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کی ہنگامی میٹنگ، بی سی بی صدر کا دورہ پاکستان

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کی سالانہ آمدنی میں اپنے حصے (Revenue Share) میں اضافے کی شرط رکھے گا۔ مزید برآں، آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بھارتی بورڈ سے کھیل کی روح کے منافی اقدامات روکنے اور “ہینڈ شیک” جیسے تنازعات کو ختم کرنے پر بات کرے گا۔ پی سی بی حکام نے آئی سی سی کو باور کرایا ہے کہ حکومت کی ہدایت کے بغیر بھارت سے میچ کھیلنا ممکن نہیں۔

مذاکرات کی تمام تر تفصیلات کے بعد اب گیند وزیراعظم شہباز شریف کے کورٹ میں ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی آج (پیر کو) وزیراعظم سے ملاقات کریں گے جس میں آئی سی سی کے وفد کی تجاویز اور پاکستان کے مطالبات پیش کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کی گرین سگنل کے بعد ہی پاک بھارت میچ کے مستقبل کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پی سی بی اور بی سی بی سے طویل مذاکرات،آئی سی سی مطالبات ماننے پر مجبور،فارمولہ تیار

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت کی ہدایت پر پی سی بی نے ورلڈ کپ میں شرکت کے باوجود بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا سخت فیصلہ کیا تھا، جس نے کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی۔

Scroll to Top