خلیجی ریاست قطر نے اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے طویل مدتی ویزا اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت پاکستانی سرمایہ کاروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو دس سالہ قیام کی اجازت دی جائے گی، جس کا مقصد قطری معیشت کا انحصار محض تیل اور گیس سے ختم کر کے اسے متنوع بنانا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک کاروبار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ہنر مند افراد بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے مستحکم مستقبل حاصل کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے نئے مواقع
اس خصوصی ویزا پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے افراد کو قطر میں طویل قیام کے ساتھ ساتھ آزادانہ کاروباری سرگرمیوں اور مختلف صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی مکمل سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندگان کو سخت معیارات پر پورا اترنا ہوگا، جن میں ان کی مالی استطاعت، متعلقہ شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت اور طویل تجربے کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی درخواستیں فوری طور پر منسوخ کر دی جائیں گی تاکہ صرف باصلاحیت اور مستند افراد ہی اس اسکیم کا حصہ بن سکیں۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کی ہنگامی میٹنگ، بی سی بی صدر کا دورہ پاکستان
معاشی ماہرین اس اقدام کو قطر کی اسٹریٹجک پالیسی کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں جس کے ذریعے ملک میں نئی صنعتوں کا قیام اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح کی اسکیمیں جہاں عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، وہی یہ پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ قطر کے محفوظ اور ترقی یافتہ ماحول میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔ اس اقدام سے نہ صرف قطر کی ترقی میں تیزی آئے گی بلکہ غیر ملکیوں کے لیے خلیج میں قیام کے حوالے سے پائے جانے والے روایتی قوانین میں بھی ایک بڑی تبدیلی رونما ہوگی۔




