اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں پیش آنے والے خودکش دھماکے سے متعلق تحقیقات میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ اور مربوط کارروائیوں کے دوران حملے سے منسلک چار مرکزی سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا داعش سے تعلق رکھنے والا افغانی ماسٹر مائنڈ بھی قانون کی گرفت میں آ چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں پشاور اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں مصدقہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر متعدد مقامات پر کامیاب چھاپے مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں ٹیکنیکل انٹیلیجنس اور ہیومن انٹیلیجنس کا مؤثر امتزاج استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورک کی نشاندہی ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ترلائی مسجد میں خود کش دھماکہ، خودکش بمبار کی شناخت کرلی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے چاروں افراد خودکش حملہ آور کے براہِ راست سہولت کار تھے، جو حملے کے لیے لاجسٹک سپورٹ، نقل و حرکت، رابطہ کاری اور مجموعی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ خودکش حملے کی مکمل منصوبہ بندی، دہشت گرد کی تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش کے نیٹ ورک کے تحت کی گئی، جس میں افغانی ماسٹر مائنڈ کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں، جس سے علاقائی سلامتی کو شدید چیلنجز لاحق ہیں۔
انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گرد عناصر کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں وطن کا ایک بہادر سپاہی شہید ہو گیا، جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ترلائی سانحہ : 25 ایمرجنسی ایمبولینسز روانہ، تمام ہسپتال ہائی الرٹ پر: مریم نواز
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مزید انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ گرفتار افراد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے منسلک تمام عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔




