متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد شہریوں اور سرمایہ کاروں نے اپنے سونے اور چاندی کے زیورات فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اچانک کمی نے دبئی گولڈ سوک سمیت مختلف مارکیٹوں میں طویل قطاریں لگوا دی ہیں۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتیں تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، جس کے بعد اچانک تیزی سے کمی واقع ہوئی۔ اس صورتحال کو کئی شہریوں نے مالی فائدہ اٹھانے کا موقع قرار دیا اور اپنے برسوں پرانے زیورات، سونے کے بسکٹ اور چاندی کے سکے مارکیٹ میں فروخت کر دیے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں افراد نے گھریلو قرضوں کی ادائیگی، کریڈٹ کارڈ واجبات ختم کرنے اور نئی جائیداد خریدنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ خاص طور پر وہ افراد جو کورونا کے بعد مالی دباؤ کا شکار تھے، انہوں نے سونے کی فروخت کو وقتی ریلیف کا ذریعہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل کمی، آج بھی ہزاروں روپے سستا
دبئی گولڈ سوک کے تاجروں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد زیورات فروخت کرنے آ رہے ہیں، جن میں مقامی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی رہائشی بھی شامل ہیں۔ ایک دکاندار کے مطابق بعض خاندان پورے پورے سیٹ فروخت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ سرمایہ کاری کی نیت سے خریدے گئے سونے کے بسکٹ مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی شرح سود سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول اگر قیمتیں دوبارہ اوپر گئیں تو فروخت کا یہ رجحان وقتی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں شہری کیش حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی، سرمایہ کار فکر مند
دوسری جانب کچھ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے بعد دوبارہ خریداری کا رجحان بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے، کیونکہ سونا اب بھی ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔




