مستحق خواتین کیBISP دفتر کے باہر شدید سردی میں صبح سے شام تک قطاریں

راولاکوٹ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دفتر میں مستحق خواتین کو شدید سرد موسم کے باوجود صبح سے شام تک قطاروں میں کھڑا رکھا جاتا ہے، جہاں اکثر خواتین کو دن بھر انتظار کے بعد یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ “کل آنا”۔ بعض خواتین 3 سے 4 دن کے چکر لگانے کے بعد اپنی امدادی رقم حاصل کر پاتی ہیں۔

زیرِ نظر تصاویر میں واضح طور پر دفتر کے باہر برف پڑی ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ دفتر میں خواتین کے بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں اور نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ناقص انتظامات پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر سیل

حال ہی میں کھوئی رٹہ (آزاد کشمیر) میں ڈپٹی کمشنر ضلع کوٹلی کے احکامات کی روشنی میں مستحق خواتین کے لیے ناقص انتظامات پر BISP انچارج کا دفتر سیل کیا گیا، جو انتظامیہ کی سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔

عوام نے حکومت سےزور درخواست ہے کہ ڈپٹی کمشنر پونچھ اور اسسٹنٹ کمشنر راولاکوٹ راولاکوٹ کے BISP دفتر کے حالات کا فوری نوٹس لیا جائے، مستحق خواتین کے لیے مناسب بیٹھنے، ٹوکن سسٹم، شیڈ اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس سنگین مسئلے کا مستقل اور عملی حل نکالا جائے۔ ساتھ ہی قانون اور سہولیات کا اطلاق صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر بھی غریب اور مستحق طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی Q2 قسط کب جاری ہوگی؟

Scroll to Top