ایران کے سعودی عرب میں سفیر علی رضا عنایتی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے سعودی عرب کے اس مدبرانہ موقف کی تعریف کی ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ بعض قوتیں “خطے کو آگ میں جھونکنا، اس کی دولت ضائع کرنا، ترقی کے پہیے کو روکنا اور اس پر جنگ مسلط کرنا” چاہتی ہیں۔
علی رضا عنایتی نے مزید کہا کہ “کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو حالات کو پلٹنا، خطے کے ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنا اور اس کے اندر فتنہ و فساد بھڑکانا چاہتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: خامنہ ای کاامریکا کو انتباہ ،ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کیخلاف بڑااقدام اٹھا لیا
ایرانی اور سعودی پرچموں کے ساتھ شائع کی گئی اس پوسٹ میں انہوں نے کہا: “اور پڑوس میں ایسے مدبرانہ موقف بھی موجود ہیں جو ایران کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں، مکالمے کی زبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی ناپسندیدہ مہم جوئی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔”
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور ان خبروں کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت نے علاقائی کشیدگی کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔
سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الشرق الاوسط کو بتایا: “سعودی عرب امریکہ اور ایران کے درمیان تمام تنازعات کے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔”
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد
اسی حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے رواں ہفتے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں اسی موقف کا اعادہ کیا، ایران کی خودمختاری کے احترام اور علاقائی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مکالمے کی حمایت پر زور دیا۔




