کالعدم بی ایل اے کی جانب سے مستونگ سینٹرل جیل پر حملہ اور متعدد قیدیوں کے چھڑانے کی خبریں جھوٹی ہیں ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے اکاؤنٹ سوشل میڈیا پہ جو ویڈیو چلا رہے ہیں وہ 2021 کی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:گوادر اور نوشکی میں بی ایل اے کے مزید دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہو گئی
اس کے علاوہ بھارتی راہ کے اکاؤنٹ گوادر پر حملے کی خبریں چلا رہے ہیں یہ ساری بھی جعلی ہیں اور ویڈیوز پرانی مختلف ممالک پر دیگر حملوں کی چلائی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کئے گئے حملوں کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے اور 117دہشتگروں کو جہنم واصل کردیا ہے جس پر دہشتگرد اور ان کے بھارتی سہولت کار سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کررہے ہیں۔
اتوار کے روز بھی سکیورٹی فورسز نے گوادر و نوشکی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے مزید دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔
سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں کارروائی کی مؤثریت اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے ۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ناکام حملوں اور موثر کارروائیوں کے بعد بی ایل اے کے عناصر کے لیے چھپنے کی جگہیں تقریباً ختم ہو گئی ہیں اور فورسز دہشت گردوں کو نظام کے تحت چن چن کر انجام تک پہنچا رہی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی کارروائی، انتہائی مطلوب کمانڈر سمیت 6 خوارج دہشتگرد ہلاک
ان کامیابیوں کو نہ صرف صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اہم قدم بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخی پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔




