اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)پاکستان نے ٹی 20ورلڈکپ میں شرکت کرنے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کردیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی حالیہ ملاقات کے دوران پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ۔
ملاقات کے بعد حکومت پاکستان نے باضابطہ اعلان کیا کہ ہم اپنی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کی اجازت دے رہے ہیں تاہم بھارت کے خلاف شیڈول میچ نہیں کھیلا جائے گا۔
اس فیصلہ کے بعد پاکستان کی ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کے سب سے بڑے مختصر فارمیٹ کے ٹورنامنٹ میں حصہ لے گی ، مگر بھارت کے ساتھ مقابلہ نہ کھیلنے کی حکومتی پالیسی کے تحت پاکستان – بھارت میچ کی منسوخی ہوگی ۔
یہ میچ 15 فروری کو شیڈول تھا اور دونوں ٹیموں کے مداح اس کے منتظر تھے مگر سیاسی اور سفارتی تعلقات کی موجودہ صورٹ حال نے اس تاریخی میچ پربُرا اثر ڈالا ہے ۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق بورڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ٹیم کی شرکت یقینی بنائے گا اور کھلاڑیوں کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی اور ورلڈکپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔
حکومت کے اس فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں مختلف ردعمل پیدا کر دیا ہے ۔ ایک طرف یہ قدم پاکستان کی سلامتی اور سفارتی مفادات کو مدنظر رکھ کر لیا گیا ہے تو دوسری طرف کرکٹ شائقین کو عالمی کرکٹ کے سب سے متوقع میچ سے محروم ہونا پڑے گا ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ٹیم کے ہر ممکنہ انتظامات کرے گا تاکہ کھلاڑی ورلڈکپ میں اپنی مکمل صلاحیت دکھا سکیں اور پاکستان کے لیے بہترین نتائج حاصل ہوں ۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل یہ فیصلہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حکمت عملی اور مقابلوں کی منصوبہ بندی میں ایک نیا رخ لے آیا ہے، اور عالمی کرکٹ میں اس کے اثرات سامنے آئیں گے ۔
اس سے نہ صرف ٹیم کے شیڈول پر اثر پڑے گا بلکہ شائقین کی توقعات اور تجزیہ کاروں کی رائے بھی متاثر ہوگی ۔




