مظفرآباد: شہر مظفرآباد میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ آٹا ڈیلرز نے عام عوام کو آٹا فراہم کرنا بند کر دیا ہے، جبکہ تندور والوں نے بھی اپنی روٹی کے نرخ دگنے کر دیے ہیں اور روٹی کا سائز بھی کم کر دیا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرے اور آٹے کی ترسیل یقینی بنائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا پہلے 21 سے 2200 روپے کا تھیلا دستیاب ہوتا تھا، جو اب تقریباً 3500 روپے کا ہو گیا ہے۔ پراٹھے پہلے 40 روپے کے تھے، لیکن گزشتہ 2-3 مہینوں میں ان کی قیمت 60 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مزید یہ کہ سپر فائن آٹا پہلے بہت سستا ہوتا تھا، لیکن اب مہنگا ہونے کی وجہ سے روزمرہ کی روٹی اور پراٹھے بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ناقص انتظامات پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر سیل
شہری اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ آئندہ آٹا بالکل ختم ہونے کے قریب ہے اور ملیں گی ہی نہیں۔ عام غریب عوام کے لیے یہ صورتحال شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے، کیونکہ آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ روزمرہ کی ضروریات پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
ماہ رمضان کے قریب آنے کے پیشِ نظر شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افطار اور سحری کے لیے ضروری اشیاء خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ شہری حکومت سے فوری مطالبہ کر رہے ہیں کہ آٹے کی فراہمی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری نوٹس لیا جائے تاکہ رمضان میں عوام مشکلات کا سامنا نہ کریں۔




