تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے محکمہ برقیات کےملازم کووینٹی لیٹر تک پہنچا دیا

مظفرآباد میں محکمہ برقیات فیلڈ کے ایک ملازم کی حالت نے ادارے میں کام کرنے والے ورک چارج ملازمین کی طویل جدوجہد اور مسائل کو نمایاں کر دیا ہے۔ کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہونے والا محکمہ برقیات کا فیلڈ ملازم اس وقت وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس واقعے نے ملازمین کی معاشی مشکلات، ذہنی کرب اور ادارہ جاتی بے حسی کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

محکمہ برقیات مظفرآباد میں گزشتہ دو دہائیوں سے تعینات ورکچارج ملازمین آج بھی مستقل ہونے کے منتظر ہیں۔ یہ وہ ملازمین ہیں جو ادارے کے لیے دن رات خدمات انجام دیتے ہیں، 24 گھنٹے اعلیٰ حکام کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے سرکاری امور سرانجام دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں نہ تو مستقل کیا جا سکا اور نہ ہی کئی ماہ سے ان کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہو سکی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں ادارے کے ساتھ کھڑے رہے، مگر جب معمول کے میزانیے میں میرٹ کی بات آتی ہے تو اعلیٰ حکام اپنے قریبی افراد کو نواز دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ناقص انتظامات پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر سیل

محکمہ برقیات میں میرٹ کی اس مبینہ پامالی نے ورکچارج ملازمین کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ مالی مشکلات اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد ملازمین ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ ذہنی دباؤ کے باعث ذہنی مریض بننے کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ برسوں کی خدمات کے باوجود ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

اسی پس منظر میں اشتیاق احمد سلہریا، جو محکمہ برقیات کے ورکچارج ملازم ہیں، گزشتہ دو دنوں سے وینٹی لیٹر پر موجود ہیں۔ اہلِ خانہ اور ساتھی ملازمین کے مطابق وہ کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید ذہنی کرب کا شکار تھے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی اس حالت کے باوجود محکمہ برقیات کا کوئی بھی افسر انہیں دیکھنے تک نہیں گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ ملازم بلکہ پورے ادارے میں کام کرنے والے دیگر ورکچارج ملازمین کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: ہر پاکستانی پر 3 لاکھ 33 ہزار قرض؟ فیکٹ چیک رپورٹ نے بھارتی دعویٰ جھوٹا ثابت کر دیا

Scroll to Top