پیرس کا آخری ہاکر‘: پاکستانی اخبار فروش کو فرانس کا اعلیٰ ایوارڈ مل گیا

پیرس (کشمیر ڈیجیٹل)فرانس کے صدر نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اخبار فروش کو فرانس کے اعلیٰ ایوارڈ سے نواز دیا۔

ایمانوئل میکرون نے علی اکبر کو گلے لگا کر “نائٹ” کا خطاب بھی عطاء کردیا۔فرانس میں نائٹ کا خطاب بہادری، جرأت اور وفاداری کے صلے میں دیا جاتا ہے۔

فرانسیسی صدر نے علی اکبر کی جدوجہد کو سراہا، 50 برس تک فرانس کو دل میں لیے اخبار فروخت کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا، پاکستانی ہاکر نے ایوارڈ کو فخر قرار دیا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں نصف صدی سے اخبار بیچنے والے پاکستانی شخص کو فرانس کا اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا انگوٹھے کے نشان کی جگہ چہرے کی شناخت کا نظام متعارف کرنے پر غور

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 73 سالہ پاکستانی شہری علی اکبر کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ 1973 سے شہر کے فیشن ایبل علاقے لیٹن کوارٹر کی سڑکوں، ریستورانوں اور دوسرے مقامات پر اخبارات فروخت کرتے آ رہے ہیں۔

ٹی وی اور انٹرنیٹ پر آن لائن ایڈیشن آنے کے بعد جب اخبارات کی مانگ میں کمی ہوئی تو انہوں نے فروخت کے لیے مزاح اور بعض دوسرے ایسے اقدامات سے کام لیا جن کی بدولت لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

ستمبر میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں علی اکبر کو ’دی نیشنل آرڈر آف میرٹ‘ سے نوازیں گے اور یہ ایک ایسا انعام ہے جو حکومت کی جانب سے ملک کے لیے سول یا فوجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔

ٹی وی کی آمد کے بعد 70 کی دہائی میں اخبارات کی فروخت کا کام ایک ایسا پیشہ تھا جو دم توڑ رہا تھا کیونکہ اس کی بدولت خبریں لوگوں تک جلدی پہنچ جاتی تھیں جبکہ انٹرنیٹ آنے کے بعد اس میں تیزی پیدا ہوئی۔

تاہم علی اکبر شہر کے وہ آخری ہاکر ہیں جو آج تک اخبار بیچنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیںاس کیلئے انہوں نے نیا انداز اپنایا ہوا ہے جس میں مسلسل لگن کے علاوہ ان کی مخصوص مسکراہٹ، مزاح اور بعض دوسرے اقدامات شامل ہیں جن سے وہ گاہکوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور اخبارات کی فروخت کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ناقص سروسز: اسسٹنٹ کمشنر باغ کا فرنچائز کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم جاری

ابتدائی جدوجہد، بقا
فرانس پہنچنے کے بعد اکبر نے ایک ملاح کے طور پر کام کیا اور بعد میں شمالی شہر روئن میں برتن دھونے والے کے طور پر کام کیا۔ بالآخر، وہ پیرس چلا گیا، جہاں موقع اسے فرانسیسی طنز نگار جارجس برنیئر کے پاس لے گیا، جس نے ہرا کیری اور چارلی ہیبڈو جیسے طنزیہ اخبارات کی فروخت شروع کرنے میں ان کی مدد کی۔

اکبر نے اعلیٰ درجے کے سینٹ-جرمین-ڈیس-پریس علاقے میں اخبارات بیچنا شروع کیے، جہاں اس کی سنسنی خیز سرخیاں، مزاح اور مخصوص آواز نے اسے مقامی لیجنڈ بنا دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، فرانسیسی اس کی اظہار کی زبان بن گئی، جس کے بارے میں میکرون نے کہا کہ اس نے “کھیلنا اور اپنا بنانا سیکھا۔”

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Emmanuel Macron (@emmanuelmacron)


علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’مجھے اخبارات کے لمس سے محبت ہے، میں ٹیبلٹس اور اس قسم کی دوسری اشیا کو زیادہ پسند نہیں کرتا مگر مجھے پڑھنا اچھا لگتا ہے وہ کتاب کی شکل میں ہو یا پھر کسی شائع شدہ شکل میں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں لکھے ہوئے مواد کو سکرین پر پڑھنا پسند نہیں ہے۔

انہوں نے اخبارات کی فروخت کے حوالے سے بتایا کہ ’میرے پاس اس کے لیے ایک خاص طریقہ ہے، میں اس دوران مزاحیہ جملے بولتا رہتا ہوں جس پر لوگ ہنستے ہیں اور میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’میں لوگوں کے دلوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہوں، جیبوں میں نہیں۔‘ تاہم دوسری جانب ڈیجیٹل ذرائع کی مقبولیت کے بعد ان کے کام کی رفتار میں کمی آئی ہے جس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں۔

علی اکبر کہتے ہیں کہ ’اب کام کچھ مشکل ہو گیا ہے۔ میں آٹھ گھنٹے میں صرف 20 تک اخبار ہی بیچ پاتا ہوں کیونکہ اب سب کچھ ڈیجیٹل ہو گیا اور کم لوگ ہی اخبار خریدتے ہیں۔‘

Scroll to Top