شدید برفباری کے باعث وادیاں، پہاڑ اور درخت سب سفید ہو گئے، بالائی علاقوں میں ہر شے جم گئی۔ مری میں سفید گالے پڑنے سے سیاحوں کی موج مستی بڑھ گئی۔ آزاد کشمیر میں برفباری سے متعدد شاہراہیں بند ہو گئی تھیں، تاہم باغ اور پیر چناسی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے جبکہ لیپہ ویلی شاہراہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔
آزاد کشمیر کے حویلی میں حالیہ شدید برفباری کے بعد مرکزی شاہرات کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ٹاؤن کے ساتھ گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔مظفر آباد سے تاؤ بٹ سڑک کئی روز بعد بھی نہ کھل سکی، راولاکوٹ سے تولی پیر شاہراہ برف پڑنے سے بند رہی۔ شدید برفباری سے آزاد کشمیر میں 19 گھر مکمل طور پر تباہ اور 47 کو جزوی نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: 9فٹ ریکارڈ برفباری،یونین کونسل بھیڈی برف میں ڈوب گئی
محکمہ شاہرات کے مطابق ضلع باغ کو ملانے والی مرکزی شاہراہِ لسڈنہ محمود گلی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے جبکہ پونچھ کو ملانے والی مرکزی شاہراہِ عباس پور محمود گلی روڈ بھی اب ٹریفک کے لیے دستیاب ہے۔ اندرون ضلع کو جانے والی بیشتر شاہرات بھی کھول دی گئی ہیں جبکہ بھیڈی علی آباد روڈ پر بحالی کام کا آغاز کر دیا گیا۔
تحصیل خورشید آباد سے ملحقہ خورشید آباد ہلاں روڈ کو رات گئے ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے اور کالامولا کو جانے والی شاہراہ بھی روڈ کے لیے دستیاب ہے۔ محکمہ شاہرات نے بتایا کہ مندھار اور یوسی بھیڈی سے ملحقہ سڑکات کی بحالی کا کام جمعرات کو شروع کیا جائے گا۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ پھسلن کے باعث رات کے پہر غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔
کشمیر، خیبر پختونخوا اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر بارش ہوئی۔ مظفر آباد، گڑھی دوپٹہ، کوٹلی، مری، منگلا، اور مالم جبہ میں بادل برسے، جبکہ بالائی علاقوں میں درجہ حرارت بدستور نقطہ انجماد سے نیچے رہا۔
یہ بھی پڑھیں: شدید برفباری کے بعد آج سلسلہ تھم گیا، آزادکشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ سے 15 گھر تباہ
ذرائع کے مطابق لہہ میں منفی 10، قلات اور پارا چنار میں منفی 7، گوپس، مالم جبہ اور استور میں منفی 6، نتھیا گلی اور کالام میں منفی 5، اور سکردو میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔




