عالمی مالیاتی منڈیوں میں آج سونے کی قیمتوں نے ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے تمام سابقہ ریکارڈز پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کے نرخوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی، جس نے دنیا بھر کی مالی منڈیوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت بڑھ کر 5200 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو اب تک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس نمایاں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کے رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، اور مالیاتی منڈیاں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے بعد سونے کی فی گرام قیمت 167 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی سطح پر فی تولہ سونے کے نرخ 1950 ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سونے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں آنے والا یہ اضافہ محض ایک دن کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، جو عوام اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کا دباؤ اور مختلف خطوں میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجوع کرتے ہیں، اور سونا ہمیشہ سے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد آپشن سمجھا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سوزوکی بائیک پر 24 ماہ کی آسان قسطوں کا منفرد منصوبہ سامنے آ گیا
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹس پر مرتب ہوں گے۔




