پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی 20ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھیجنے کے معاملے پر حتمی فیصلہ چند دنوں کے لیے موخر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ جمعے یا پیر تک متوقع ہے۔
اس دوران مکمل بائیکاٹ یا صرف بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے جیسے آپشنز پر بھی غور ہو رہا ہے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس صورتحال میں ٹیم بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپاہ وائرس کے بڑھتے کیسز،بھارت میں ٹی 20ورلڈکپ کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے
اس تمام صورتحال کے درمیان یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر پاکستان ٹی 20ورلڈ کپ نہ کھیلا تو نقصان کس کا ہوگا؟ ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری طرف آئی سی سی، براڈ کاسٹرز اور وہ ممالک جو اس بڑے ایونٹ سے کمائی کرتے ہیں۔
ٹی 20ورلڈ کپ کا آغاز سات فروری سے بھارت کی میزبانی میں ہو رہا ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ایونٹ سے نکال اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے پر آئی سی سی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے اور اس رویے کے خلاف بھارت کیخلاف میچ یا ایونٹ کے مکمل بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان اگر ورلڈ کپ میں شرکت کرتا ہے تو اپنا پہلا میچ کولمبو میں نیدرلینڈ کے خلاف 7فروری کو کھیلے گا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو فوری طور پر پی سی بی کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی پاکستان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے اور سالانہ فنڈز بھی روک سکتا ہے۔
موجودہ ریونیو شیئرنگ ماڈل کے تحت پاکستان کو 2024 سے 2027 کے دوران سالانہ تقریباً تین کروڑ 45 لاکھ ڈالر ملنے ہیں۔
یہ رقم پاکستان کرکٹ کے روزمرہ اخراجات، ڈومیسٹک اسٹرکچر اور کھلاڑیوں کی ادائیگیوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی 20ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس، جیسے ون ڈے ورلڈ کپ یا ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کی شرکت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان نے ورلڈ کپ نہ کھیلا تو آئی سی سی اور عالمی کرکٹ معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
سابق کرکٹر باسط علی اور دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ وہ مقابلہ ہے جس کے ٹکٹ سب سے پہلے فروخت ہوتے ہیں اور ٹی وی اشتہارات سب سے مہنگے داموں بکتے ہیں۔
اندازوں کے مطابق گزشتہ 20برسوں میں پاک بھارت میچز سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت، حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو ہوگا،محسن نقوی
تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق صرف بھارت میں اس میچ کے دوران اشتہارات کا ایئر ٹائم ہزاروں ڈالر فی سیکنڈ تک فروخت ہوتا ہے، جبکہ اسپانسرشپس، گراؤنڈ برانڈنگ اور براڈکاسٹنگ معاہدے بھی اسی میچ کے گرد گھومتے ہیں۔
اس تمام معاملے کو یوں سمجھیں کہ پاکستان اگر نہ کھیلا تو آئی سی سی کی کمائی، براڈکاسٹرز کے ریٹنگز اور اسپانسرز کے منصوبے سب متاثر ہوں گے۔




