آزادکشمیر:طوفانی برفباری، ایک اور مکان زمین بوس، متعدد ٹرانسفارمر جل گئے

جہلم ویلی(کشمیر ڈیجیٹل) تحصیل چکار گاؤں ڈھاریاں بازار ناڑا کے رہائشی چوہدری شمریز کا گھر برف کے بھاری وزن کو برداشت نہ کر سکا اور مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا۔

شدید برفباری اورسخت سردی میں پورا خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ، حکومت کی طرف سے تاحال کوئی بھی ریلیف نہ مل سکا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے کا 6 ماہ تک سم استعمال نہ کرنے پر بند کرنے کا اعلان

مکان گرنے سے خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا، مگر سرد موسم میں بغیر چھت کے زندگی گزارنا کسی آزمائش سے کم نہیں۔۔۔

ہجیرہ و گردونواح میں بارش و برف باری کا نیا سلسلہ رات سے شروع۔بجلی غائب،فون و انٹرنیٹ سروس معطل،ہجیرہ وگردونواح میں گزشتہ رات سے بارش و برفباری کانیا سلسلہ شروع ہوگیاجو اب تک جاری ہے۔

رات گئے سے بجلی،فون و انٹرنیٹ سروس معطل ہے جبکہ بارش و برفباری کے باعث کچےمکانوں کی چھتیں ٹپکنےلگی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شدید بارش اور برفباری کے باعث وزیر مواصلات نےمحکمہ شاہرات کو ہائی الرٹ کر دیا

وادی نیلم میں شدید برفباری، مرکزی شاہراہ سمیت تمام رابطہ سڑکیں بندوادی نیلم نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔

شدید برفباری کے باعث مرکزی شاہراہ نیلم سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ لوات سے تاوبٹ تک سینکڑوں گلیشیئرز کے باعث شاہراہ مکمل طور پر بند ہے۔

لاکھوں افراد محصور ہو کر رہ گئے۔برفباری کے بعد وادی نیلم سیاحوں کے لیے ایک نیا اور دلکش روپ اختیار کر گئی جس پر سیاح خوشی سے جھوم اٹھے۔

تاہم مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حلقہ 25 نیلم ون کے بیشتر دیہاتوں کے مکین برفباری کے باعث گھروں میں محصور ہو چکے ہیں جبکہ بجلی کی طویل بندش نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد پولیس کی اغواء، ڈکیتی اور بلیک میلنگ میں ملوث منظم گینگ کیخلاف کامیاب کاروائی

محکمہ موسمیات کے مطابق 26 جنوری کی شام سے شروع ہونے والا برفباری کا سلسلہ 27 جنوری کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

ریکارڈ کی گئی برفباری کے مطابق تاوبٹ میں 8، کیل میں 5، شاردہ 3، دودھنیال گہوری 3 ، لوات بالا 3 فٹ اورکیرن 6 انچ جبکہ آٹھمقام میں 2 انچ برف پڑ چکی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر بھارت کا حصہ تھا نہ کبھی ہوگا،پاکستان کاکرارا جواب،بھارتی مندوب فرار

ڈپٹی کمشنر نیلم چوہدری اقبال حسن نے پولیس، محکمہ مال، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے)، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بروقت امدادی کارروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔

ضلعی، سب ڈویژنل اور نیابت انتظامیہ کو بھی مکمل الرٹ کر دیا گیا ہے۔محکمۂ برقیات کی بدانتظامی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ بجلی غائب، متعدد ٹرانسفارمر جل گئے۔
لائنیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ اگر فوری حل نہ ہوا تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔

Scroll to Top