نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے: اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ وفاقی کابینہ کی منظوری ملتے ہی ان نوٹس کی چھپائی کا باضابطہ آغاز کر دیا جائے گا۔

اس بات کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کے روز مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس بیک وقت چھاپنے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے، تاہم ان کی چھپائی وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کابینہ سے منظوری ملے گی، چھپائی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔

جمیل احمد کے مطابق، “نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد جلد چھپائی شروع کر دی جائے گی، اور دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے۔”

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نئے کرنسی نوٹوں کےعوام پر ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

گورنر اسٹیٹ بینک نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے بلکہ انہیں مرحلہ وار گردش میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹس اس وقت متعارف کرائے جائیں گے جب مرکزی بینک کے پاس موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں اسٹاک دستیاب ہو جائے گا۔

تاہم اسٹیٹ بینک کے گورنر نے یہ واضح نہیں کیا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے کرنسی نوٹس کو متعارف کرایا جائے گا۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے مالیت کے کرنسی نوٹس زیر گردش ہیں۔

جمیل احمد نے مزید بتایا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم آفس کی جانب سے اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا تھا اور اس معاملے کے لیے ایک کابینہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے4 کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی

کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس عمل میں بین الاقوامی ماہرین کی معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top