شکار کے دوران غلطی سے سرحد پار کرنے کے بعد 25 سال بھارتی جیلوں میں گزارنے والا پاکستانی شہری اصغر علی بھارتی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں جس سے طویل اور تکلیف دہ باب کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
ضلع رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد کے قریب چک 170-P کے رہائشی اصغر علی رہائی کے بعد اپنے آبائی گاؤں پہنچے، جہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہونے والے مقامی لوگوں نے پرتپاک استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر ڈیجیٹل کی خبر پر ایکشن، عوامی ایکشن کمیٹی کا یٰسین ملک کی رہائی کیلئے احتجاج کا اعلان
آفیشل اور فیملی اکاؤنٹس کے مطابق اصغر علی 2000 میں شکار کے سفر کے دوران غلطی سے بھارتی علاقے میں داخل ہو گئے تھے جس کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار کر کے اس پر دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات عائد کئے تھے۔
بھارتی عدالت نے انہیں10سال قید کی سزا سنائی، باوجود اس کے کہ اس نے غیر ارادی طور پر سرحد پار کی تھی اور اس کا کسی عسکریت پسند یا انٹیلی جنس سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
2010میں 10سال قید پوری ہونے پر بھارتی ایجنسیوں نے اصغر علی پر جیل میں رہ کر حملہ کرانے کا الزام لگا دیا جس پر انہیں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔
اصغر علی نےسپریم کورٹ میں اپیل کی جہاں سے رہائی کے احکامات جاری ہوئےاورانہیں رہائی کا پروانہ ملا
اصغر علی نے ایک یو ٹیوب چینل سے گفتگو میں کہا کہ انہیں اپنی حراست کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑااوراپنی قید کے دوران ہندوستانی جیلوں میں بار بار جسمانی زیادتی اور طویل اذیتیں برداشت کیں۔
ان کا کہنا تھاکہ دوستوں کیساتھ چولستان میں شکار کیلئے گیا تھا ، ریت کے ٹیلوں میں سمجھ ہی نہیں آئی اور سرحد کراس کر گیا تھا جس پر بھارتی فورسز نے مظالم ڈھائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت امریکا کے معاشی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا
اصغر علی کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز میں کسی قسم کا ڈسپلن نہیں ہے اور پاکستان نے نفرت کی بنا کر مجھے نشانہ بنایا گیا، میری فیملی نے وکیل کرکے دیا جس پر واپسی ممکن ہوسکی۔وہاں رشوت خوری عام ہے، میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔




