امریکہ میں برفانی طوفان کے باعث پروازیں منسوخ، 850,000 سے زائد گھر بجلی سے محروم

امریکہ کے مختلف حصوں میں ایک شدید برفانی طوفان نے تباہ کن صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں 14,400 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ 850,000 سے زائد گھروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے کہا،”ایک آرکٹک محاصرہ ہماری ریاست پر چھا گیا ہے۔ یہ بے حد سخت، ہڈیوں کو جما دینے والا اور نہایت خطرناک ہے۔”

یہ شدید طوفان جنوبی راکی پہاڑوں سے لے کر نیو انگلینڈ تک امریکی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ نیشنل ویدر سروس (NWS) کے مطابق 37 ریاستوں میں کم از کم 180 ملین افراد متاثر ہیں، جو امریکہ کی نصف سے زائد آبادی بنتی ہے۔

ادھر17ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اور امدادی سامان الرٹ پر رکھے گئے ہیں۔ NBC نیوز کے مطابق، اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں دو لوزیانا، ایک ٹیکساس، ایک کینساس اور تین ٹینیسی میں جان کی بازی ہار گئے۔

یہ بھی پڑھیں: زوہران ممدانی کا نیویارک شہریوں کو برفباری میں گھر رہنے اور ’ہیٹڈ رائیولری‘ پڑھنے کا مشورہ

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شمال مشرقی علاقوں میں پیر کی رات تک2 فٹ (60 سینٹی میٹر) تک برف پڑ سکتی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں برف نہیں پڑے گی وہاں بارش اور “خطرناک برفانی تہہ” بننے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کروڑوں افراد کو خطرناک حد تک سرد ہواؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیشنل اوشنک اینڈ اٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن کے جوش وائس نے کہا کہ یہ طوفان اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے “منفرد” ہے، کیونکہ یہ 2,000 میل تک پھیلا ہوا ہے اور آئندہ ہفتے شدید سردی چھوڑ کر جائے گا۔

دوسری جانب فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ FlightAware کے مطابق، اتوار کے روز 14,400 سے زائد پروازیں منسوخ جبکہ مزید 8,000 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایوی ایشن تجزیاتی ادارے سیریم نے کہا کہ یہ COVID وبا کے بعد کسی ایک دن میں سب سے زیادہ پروازوں کی منسوخی ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ “گھروں میں ہی رہیں”، کیونکہ درجہ حرارت “انتہائی، انتہائی سرد” ہے۔

نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے بتایا کہ شہر میں ہزاروں کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو سنو پلو میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور انہوں نے خبردار کیا کہ شہر کو گزشتہ آٹھ برسوں کی سب سے شدید سردی کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ متاثرہ ریاستوں میں طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز تعلیم ریموٹ ہو گی۔

کینیڈا کی سرحد کے قریب نیویارک کی بعض آبادیوں میں ریکارڈ توڑ سردی ہے، جن میں لیوس کاؤنٹی کے گاؤں کوپن ہیگن میں درجہ حرارت منفی 45 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 49 فارن ہائیٹ) تک ریکارڈ کیا گیا۔

نیو جرسی کی گورنر مکی شیرل نے شاہراہوں پر رفتار کی حد 35 میل فی گھنٹہ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے حالات کی توقع کر رہی ہیں “جو ہم نے برسوں سے نہیں دیکھے”۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

جارجیا کے سینئر ریاستی موسمیات دان ول لینکسن نے کہا کہ یہ “شاید ایک دہائی سے زائد عرصے میں متوقع سب سے بڑا برفانی طوفان” ہے۔

PowerOutage.us کے مطابق، امریکی وقت کے مطابق دوپہر 12:15 بجے تک ملک بھر میں 889,000 سے زائد بجلی کے تعطل رپورٹ کیے گئے۔ ٹینیسی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 300,000 سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں، جبکہ ٹیکساس، لوزیانا اور مسیسیپی میں بھی ایک لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے۔

Scroll to Top