26 جنوری یوم سیاہ: چئیرمین کشمیر بار کونسل نے کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا

چئیرمین کشمیر کمیٹی آزاد جموں و کشمیر بار کونسل، محمد صغیر حیدر جرال ایڈووکیٹ نے کہا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر پر بھارت نے پچھلے 78 سال سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ 78 سال سے کشمیری عوام پر ظلم و ستم جاری ہے، جہاں لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں ہیں۔ ہزاروں افراد کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر پابند سلاسل قید و بند میں رکھا ہوا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔

چئیرمین نے کہا کہ جموں و کشمیر کو تقسیم در تقسیم کر کے اس کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت اور اس کی افواج جموں و کشمیر میں دہشت گردی کر رہی تھیں، اور 5 اگست 2019 کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دے کر بھارتی سپریم کورٹ نے عدالتی دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ،دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں

انہوں نے واضح کیا کہ ہم بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات، ظلم و ستم اور دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ چئیرمین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے خلاف آواز اٹھائیں اور بھارتی ظلم و ستم سے جموں و کشمیر کے عوام کو بچانے کے لیے عملی طور پر کشمیری عوام کا ساتھ دیں۔

چئیرمین نے مزید کہا کہ ہم یاسین ملک سمیت بھارتی جیلوں میں غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر قید و بند کشمیری حریت پسند اور سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپنی قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کریں، سیاسی جماعتی اور گروہی اختلافات ختم کرتے ہوئے یکجہتی اور یکسوئی کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت اور آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔ چئیرمین نے دعا کی کہ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں: جنت نظیر پر بھارتی قبضے کے 78 سال مکمل، کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

Scroll to Top