محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش اور برفباری کے نئے سپیل کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں موسم کی شدت برقرار ہے۔ مظفرآباد میں شہر اور گرد و نواح میں کہیں موسلا دھار بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید سردی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ درجہ حرارت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ میدانی علاقوں میں شدید دھند اور قورا پڑنے سے ٹریفک اور روزمرہ معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 25 جنوری سے ملک بھر میں بارش اور برفباری کے نئے سپیل کا آغاز ہوگا، جو منگل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ 25 جنوری کو ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا اور 26 جنوری کو مزید علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، جس کے باعث موسم مزید سرد ہونے کا امکان ہے۔ 25 اور 26 جنوری کو بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔ اسی طرح 26 سے 27 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مری، گلیات، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برفباری متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر،برف میں پھنسے مسافروں کو اپنے گھروں میں پناہ دے کر مقامی لوگوں نے مثال قائم کردی
دوسری جانب ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں وادی نیلم، سدھنوتی، باغ، ہٹیاں بالا، اٹھ مقام اور اپر نیلم میں گزشتہ رات سے برفباری جاری ہے۔ شدید برفباری کے باعث ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں، جن میں تقریباً 100 افراد سوار تھے۔ پاک فوج نے کارروائی کرتے ہوئے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا، جبکہ ایمبولینس میں موجود دو میتیں بھی نکال لی گئیں۔
مظفرآباد میں کئی سالوں بعد برفباری ہوئی، جبکہ وادی نیلم میں شدید برفباری سے تین مکانات گر گئے۔ برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہیں بند ہوگئیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ متعدد علاقوں میں بجلی کے پولز گرنے اور تاریں ٹوٹنے کے باعث گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
خیبرپختونخوا میں بھی وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔ وادی کاغان میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا اور سیاحوں کو بالا کوٹ میں روک لیا گیا۔ دیربالا، کمراٹ، لواری ٹنل اور باجوڑ میں بھی برفباری سے راستے بند ہیں۔ ملاکنڈ میں کئی سالوں کے بعد برفباری ہوئی جبکہ کچھ مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔ خیبر میں برفباری کے باعث پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کیا گیا، جبکہ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر، شدید برفباری کے باعث بند سڑکیں بحال نہ ہوسکیں، مزید برفباری کاالرٹ جاری
گلگت بلتستان میں شدید برفباری کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہو گئی، جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ استور میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی درہم برہم ہو گیا اور ضلع کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں پانچ سے چھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جبکہ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی۔ ہنزہ اور نگر میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، جبکہ وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو شدید سردی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔




