بنگلادیش

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دوری، بنگلادیش کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوسکتا ہے

ڈھاکہ: بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اگر بنگلادیش ٹیم بھارت میں شیڈول ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیتی تو بورڈ کو تقریباً 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوسکتا ہے ۔ یہ نقصان خاص طور پر براڈکاسٹ رائیٹس اور اسپانسرشپ کی مد میں ہونے والی آمدنی سے ہوگا، جو بورڈ کی سالانہ کمائی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے ۔ مالی نقصان کے علاوہ، بورڈ کی ساکھ اور انٹرنیشنل تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کیخلاف ہوم سیریز ،شاہین آفریدی فٹ قرار، سکواڈ میں شمولیت متوقع

بنگلادیش نے بھارت جانے سے انکار اس لیے کیا ہے کیونکہ وہاں سکیورٹی خدشات ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ٹیم کی حفاظت کیلئے ضروری تھا، لیکن اس کے نتیجے میں کرکٹ بورڈ کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ مستقبل کی دوطرفہ سیریز پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔

بنگلادیش اور بھارت کے درمیان اس سال پہلے سے ہی دو طرفہ سیریز شیڈول ہیں، اور ورلڈ کپ بائیکاٹ کی وجہ سے ان کے انعقاد پر سوالات اٹھ سکتے ہیں ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی، جو بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:لاہور قلندرز ملکیت کا تنازعہ، فواد رانا کی عدالتی فیصلہ سے دوبارہ انٹری

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں عدم شرکت نہ صرف مالی طور پر نقصان دہ ہوگی بلکہ ٹیم کے لیے تجرباتی اور مقابلہ جاتی مواقع بھی محدود ہوں گے ۔ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ اس وقت مستقبل کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے تاکہ مالی نقصان کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی تعلقات قائم رہیں ۔

Scroll to Top