ہائیکورٹ آزادکشمیر

چیف الیکشن کمشنر کی عدم تقرری، چیئرمین کشمیر کونسل، وزیراعظم ،اپوزیشن لیڈر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

مظفرآباد(کشمیرڈیجیٹل)چیف الیکشن کمشنر کی عدم تقرری کیخلاف عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر میں وزیراعظم پاکستان (چیئرمین کشمیر کونسل) ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور اپوزیشن لیڈر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے ۔

بدھ کے روز عدالت العالیہ میں معروف قانون دان راجہ ذوالقرنین عابد ایڈووکیٹ وغیرہ بنام میاں محمد شہباز شریف وغیرہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت العالیہ کے فیصلے عنوانی چوہدری اعجاز احمد کھٹانہ بنام آزاد جموں کشمیر کونسل وغیرہ محررہ 23 ستمبر 2025 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈیوڈ بیکہم کے بیٹے نے والدین پر سنگین الزامات لگادیے، والد کا ردعمل آ گیا

درخواست عنوانی راجہ ذوالقرنین عابد ایڈووکیٹ وغیرہ بنام شہباز شریف، فیصل ممتاز راٹھور وغیرہ سینٹرل بار کے وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے فیاض خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیروی کر رہے ہیں، جنھوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو بطور چیئرمین آزاد جموں وکشمیر کونسل، وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور شاہ غلام قادر بطور اپوزیشن لیڈر کو نامزد کیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فضائیہ کا تربیتی طیارہ پریاگ راج میں تالاب میں گر کر تباہ

وکلا کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی نشست ساڑھے 12 ماہ سے خالی ہے آئینی ادارے کی تکمیل کے لئے عدالت العالیہ آزاد جموں کشمیر نے ستمبر میں حکم جاری کیا تھا 4 ماہ گزرنے کے باوجود اس اہم ترین منصب پر تقرری نہ ہوسکی۔۔

آئین کے مطابق وزیراعظم آزادکشمیر اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے وزیراعظم پاکستان فیصلہ کرنے کے پابند ہیں مگر ان تینوں آئینی عہدیداروں کی سستی و غیر سنجیدگی کے باعث الیکشن کمیشن تاحال نامکمل ہے ۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت پہلی بار 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی

جبکہ آزادکشمیر کی آئینی مدت جولائی میں ختم ہورہی ہے اور اس سے 3 ماہ قبل الیکشن شیڈول کا اعلان ہونا ہے۔

جبکہ حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی ازسر نو تیاری کے لئے کم از کم 8 ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے مگر ایک سال سے الیکشن کمیشن کی غیر فعاليت کے باعث حلقہ بندیاں شروع ہوئیں نہ ہی ووٹر لسٹوں پر کوئی کام ہوا۔۔

خدشہ ہے کہ اگر فروری تک چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر الیکشن کمیشن تقرر نہ ہوا تو انتخابات کئی ماہ تاخیر ہوسکتے ہیں تاہم اس مقصد کے لئے حکومت کو آئینی ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت درکار ہوگی۔

Scroll to Top